رشتے، پیار اور زندگی کے ہوتے ہیں، اچھا وقت جہاں گزرا ہو وہاں سے الوداع ہوتے دکھ زیادہ اور خوشی کم ہوتی ہے، آنکھوں میں نمی اور آواز بھر جاتی ہے۔

الوداع کی تقریب

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 440

ایک پروقار تقریب میں الوداع کہا گیا جس کا اہتمام میرے دفتری کولیگز نے کیا تھا۔ اس میں ڈویثرن کے بہت سے افسران اور میرے دوست بھی شامل تھے۔ یہ موقع عجیب سی کیفیت لئے تھا۔ اچھا وقت جہاں گزرا ہو وہاں سے الوداع ہوتے دکھ زیادہ اور خوشی کم ہوتی ہے۔ آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے اور آواز بھرا جاتی ہے۔ ایسا احساس شاید ان میں زیادہ ہوتا ہے جن کی طبعیت میں حساسیت ہو۔ سچی بات تو یہ تھی کہ لالہ موسیٰ سے تبادلہ کے وقت جو جذبات تھے ویسے ہی یہاں سے رخصت ہوتے وقت بھی تھے۔ میں محسوس کر سکتا تھا کہ میرے دفتر کے لوگوں کے جذبات بھی ایسے ہی تھے۔ وہ بھی بادل نخواستہ مجھ سے جدا ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت پہلا فل کورٹ اجلاس ختم

انسانی رشتے اور محبت

انسانی رشتے پیار کے اور زندگی کے ہوتے ہیں۔ مر کر نہ کوئی کسی کے کام آ سکتا ہے اور نہ ہی مردہ دنیا میں آ کر دیکھ سکتا ہے کہ اس کے کسی عزیز رشتے دار کے ساتھ اس کے کسی جانے والے کا کیا سلوک رہا ہے؟ لہٰذا زندگی میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔ محبتیں بکھریں، محبتیں سمیٹیں، خوش رہیں، خوش رکھیں۔ یاد رکھیں گلے شکوے سے زندگی بسر نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشق ’’انسپائرڈ گمبٹ‘‘ کو دفاعی تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا

کامیاب ملازمت

میری نظر میں کامیاب سرکاری ملازم وہی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنے کسی سابق دفتر عزت سے جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن: 37 واں سینیئر مینجمنٹ کورس کے لیے گریڈ 19 کے افسران نامزد

گوجرانوالہ: ایک ترقی پذیر شہر

رنجیت سنگھ کی راجدھانی گوجرانوالہ آج کا ترقی کرتا ہوا صنعتی شہر ہے۔ کبھی اس کا شمار ایشیا کے گندے ترین شہروں میں ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں۔ یہ شہر سرامکس، سٹین لیس سٹیل کے برتن، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، پنکھا سازی اور چمڑے کی مصنوعات بنانے میں شہرت رکھتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی جنم بھومی، 1799ء تک اس کی ریاست کا صدر مقام بھی رہا۔ سکھ ازم کے اہم گردوارے جہاں بابا گرو نانک بھی مذہبی رسومات ادا کرتے رہے ہیں، یہیں ہیں۔ ان میں گردوارہ چکی صاحب (ایمن آباد) اور دربار کرتار پور (شکر گڑھ) معروف ہیں۔ یہاں کی رائس ملیں بہترین چاول دوسرے ممالک کو برآمد کرتی ہیں۔ لوگ کھانے کے شوقین ہیں اور یہاں کا بار بی کیو ملک بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس شہر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ برصغیر کے نامور پہلوانوں کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کتب بینی کے فروغ اور پبلک لائبریریوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے متعدد فیصلے

ماضی کے یادگار لمحات

میں اسی شہر میں افسر بن کر جا رہا تھا جہاں میرے نانا آسودہ خاک تھے۔ جہاں میرے بچپن کا کچھ وقت گزرا تھا۔ جہاں کی سڑکوں پر میں سائیکل چلاتا باغبانپورہ پہنچ جاتا تھا۔ وہی شہر تھا جہاں میں بھٹو صاحب کی موٹر کے شیشے سے چمٹ کر ان کے سحر میں جکڑا گیا تھا۔ آج میں کچھ سمجھ دار تھا۔ بطور ڈائریکٹر اس ڈویثرن جا رہا تھا جو انتظامی لحاظ سے پنجاب کا سب سے بڑا ڈویثرن تھا۔ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے ڈویثرن بہاول پور سے اس ڈویثرن تک کا سفر تقریباً پانچ سو (500) کلومیٹر تھا۔

دورانِ ملازمت کی تبدیلیاں

میں ایک بار پہلے بھی اس شہر میں بطور پراجیکٹ منیجر گوجرانوالہ صدر تعینات رہا تھا۔ وہ 1993ء تھا اور میں تھانے لیول کا انچارج تھا۔ بائیس سال بعد بطور ڈویثرنل ڈائریکٹر پورا ڈویثرن میری ذمہ داری تھا۔ خالی پوسٹ کا چارج لینے یکم ستمبر 2015ء کو یہاں پہنچا۔ 1993ء کے دور کے بہت سے لوگ اب نہیں رہے تھے۔ کچھ ریٹائر ہوگئے، کچھ دوسرے بلدیاتی اداروں میں کھپ گئے اور کچھ دنیا ہی چھوڑ گئے تھے۔ 2001ء کی ڈولوشن کے بعد جو جہاں چلا گیا تھا وہاں سے واپس اس دفتر آنے کو تیار نہ تھا کہ وہاں تنخواہ کے علاوہ اوپر کی بھی آمدنی تھی۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...