منشیات سے بیزاری کے لیے نوجوانوں کی بیداری ناگزیر ہے: انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ

نوجوانوں کی بیداری اور منشیات کی روک تھام

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی چیئرمین محمد ناصر اقبال خان نے کہا ہے کہ منشیات سے بیزاری کے لئے نوجوانوں کی بیداری ناگزیر ہے۔ منشیات کی متعدد اقسام تک رسائی عام ہے، لوگ جانے انجانے میں اس روگ میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ انہیں دردناک موت سے بچانے کے لئے ماہرین کی مہارت اور مشاورت سے منشیات کی شناخت سہل بنانی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر کیوں روک دیا گیا؟ وجہ سامنے آ گئی

اینٹی نارکوٹکس فورس کی اصلاحات کی ضرورت

منشیات سے نجات کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس کے اقدامات اور ادارہ کی اصلاحات میں مزید جدت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواہش کے مطابق اندازفکر اور زندگی بسر کرنے کی عادت ممکن ہے لیکن آسان بھی نہیں، کوئی توقع نہیں کر سکتا کہ اس کا بدن راتوں رات نئی عادت اپنا لے گا

تعلیم اور والدین کا کردار

اپنے ایک بیان میں محمد ناصر اقبال خان نے مزید کہا کہ نصاب تعلیم، اساتذہ اور علماء کی مدد سے طلباء و طالبات کو منشیات کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔ منشیات کی بھاری مقدار کے ساتھ گرفتار سماج دشمن عناصر کی چند پیشیوں کے بعد ضمانت پر رہائی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، اس ضمن میں سخت قانون سازی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ماں باپ اپنے بچوں کو معاشرے کا صحت مند اور سودمند فرد بنانے کے لئے ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی نہ کریں۔

نوجوانوں کے لئے عبرت انگیز بصیرت

منشیات کے عادی افراد کی ابتر حالت والی تصاویر شاہراہوں اور درسگاہوں میں آویزاں کرنے سے نوجوانوں کو یقینا عبرت ہوگی اور وہ منشیات کا زہراستعمال نہیں کریں گے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...