احسن اقبال بنگلہ دیشی وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے ڈھاکہ روانہ
بنگلہ دیش کے وزیراعظم کی حلف برداری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب 17 فروری کو ہوگی۔ اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عزم مصمم ہو تو میرٹ، محنت اور مساوات کے درخشاں اصولوں پر مبنی فلاحی معاشرے کی تعمیر کیلئے اب بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے
وزیراعظم شہباز شریف کی عدم موجودگی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بیرون ملک دورے کے باعث حلف برداری میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صاحب ان دنوں طفیل روڈ والے گھر رہتے تھے، یہ بڑی شرمندگی کی بات تھی کہ وزیر قانون کی گاڑی چرا لی گئی، کوشش کے باوجود پولیس برآمد نہ کر سکی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکہ روانگی
وفاقی وزیر احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلہ دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بنگلہ دیش میں اعلیٰ سطحی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس یحییٰ آفریدی آج چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدےکا حلف اٹھائیں گے
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات
احسن اقبال نے کہا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے سیاسی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور مستقبل میں سیاسی و اقتصادی پیش رفت کے روشن امکانات کے لیے پُرامید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی کی خاتون وکیل نے سینٹری پیڈز پر ٹیکس کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ بنگلہ دیش
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جلد بنگلہ دیش کا دورہ کر کے نئے وزیراعظم طارق رحمان کو مبارکباد دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخواہ کے گھروں کی فروخت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
حلف برداری تقریب میں عالمی مہمان
بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم اور ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری میں شرکت کے لیے چین، سعودی عرب، بھارت، ترکی، یو اے ای، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا اور نیپال سمیت مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت دی گئی ہے۔
بنگلادیش کے انتخابات کے نتائج
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں لے کر واضح برتری حاصل کرلی ہے جبکہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔








