سولر نیٹ میٹرنگ پر وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سے جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اور حکومتی پالیسی کے خلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ
تحریری فیصلے کے اہم نکات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات انتہائی اہم ہیں۔ عدالت معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے گی۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اٹارنی جنرل بھی عدالتی معاونت کے لئے پیش ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پارلیمانی وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر مراکش پہنچ گئے۔
عدالتی کارروائی
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جو دو صفحات پر مشتمل ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نعمان قیصر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ لانا صارفین کے حقوق پر ڈاکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوپ 29، ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن…
قانونی چیلنجز اور مطالبات
نیپرا کے نئے قوانین آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں۔ حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا ہے، اور نئی پالیسی سولر سسٹم پر سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے لئے بوجھ بن گئی ہے۔
درخواست کا مقصد
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنے کے احکامات جاری کئے جائیں اور نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کا حکم دیا جائے۔








