عمران خان کو اگر کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی زندگی بچانے کے لیے بیرون ملک بھجوایا جاسکتا ہے ،ورنہ نہیں، بیرسٹر دانیال چودھری
عمران خان کی صحت کے حوالے سے بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آ ن لائن) وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چودھری کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو کسی جان لیوا بیماری کا سامنا ہوا تو انہیں زندگی بچانے کے لیے بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدیل برکی کی کتاب سونانس کی تقریب پذیرائی، معروف دانشوروں اور ادیبوں کی شرکت
میڈیا سے گفتگو
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ڈیل کے حوالے سے اگر کوئی بات چیت ہوئی تو وہ پارلیمانی قوتوں سے ہوگی۔ بانی پی ٹی آئی کو بیرون ملک بھجوانے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانونی شہادت کی بنیاد پر اگر کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہو تو ہی زندگی بچانے کے لیے بیرون ملک بھجوایا جا سکتا ہے، ورنہ ایسا نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے میچ کا ٹاس ہوگیا
علاج کی سہولیات
عمران خان کے علاج کے حوالے سے واضح ہے کہ جو علاج ضروری ہے وہ میسر ہے اور آئندہ بھی میسر رہے گا۔ حکومت علاج کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے، اور ان کے بارے میں پروپیگنڈا جھوٹ نکلا ہے۔ عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور میڈیکل بورڈ کی تمام سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا
بیرسٹر دانیال چودھری نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر بانی کے حواریوں کا ’’پیڈ پروپیگنڈا‘‘ جاری ہے۔ وہ پہلے دن سے ڈیل اور ڈھیل کے خواہش مند ہیں اور ہمیشہ بے ساکھیاں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں تو وہ پارلیمانی راستہ ہی اپنائیں۔ بلیک میلنگ قبول نہیں کی جائے گی، اور دھرنے یا احتجاج کے علاوہ ان کی کوئی دوسری ترجیحات نہیں ہیں۔ یہ ملک اور سیاست کے لیے کچھ نہیں کرتے اور انہیں کسی قسم کا ریلیف نہیں ملے گا۔








