احتجاج کا حق ہے لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے، شرجیل انعام میمن

شرجیل میمن کا احتجاج پر اظہار خیال

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ احتجاج کا حق ہے لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ نے واضح کر دیا کہ ہمارے خطے میں امریکی فوجی اڈے کسی کی حفاظت نہیں کرتے: ایرانی سپیکر

سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کا نکتہ اعتراض

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ حافظ نعیم سندھ اسمبلی کی رکنیت کا حلف کیوں نہیں لیتے؟ پریس کانفرنس تو روز کر لیتے ہیں۔ عوام کا کیا قصور ہے، چند دن پہلے شاہراہ فیصل پر جلسہ کیا، کوئی اجازت نہیں لی گئی، لوگ رل جاتے ہیں۔ آپ لوگ چاہتے ہو آپکو سرکار سے کوئی اجازت درکار نہیں ہو، سڑکوں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے۔ پولیس نے جماعت اسلامی کے تمام عہدیداران کو کہا تھا کہ آپ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے، ہفتے کے دن اسمبلی بند تھی، آج اسمبلی میں آپ نے بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میکے کو تشدد کی اطلاع دینے پر شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل

پولیس پر پتھراؤ کا الزام

شرجیل میمن نے کہا کہ پولیس والوں پر جماعت اسلامی کے کارکنان پتھرائو کر رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کے سابق ممبر پولیس پر پتھرائو کروانے میں ملوث تھے۔ کیا پولیس والوں کے بچے نہیں ہیں؟ وہ فیملی والے نہیں ہیں؟ زبردستی آپ لوگ ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ پتھراؤ کے لیے لوگوں کو اکسایا جا رہا تھا۔ اسمبلی میں دو گھنٹے تقریر کریں، کس نے منع کیا ہے؟ حکومت کو پیغام پہنچانے کا طریقہ اسمبلی میں بات کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے عمران خان تک رسائی اور علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

پولیس پر حملے کا سوال

شرجیل میمن نے سابق رکن جماعت اسلامی عبدالرشید کے پولیس پر پتھراؤ کی ویڈیو چلادی اور کہا کہ یہ کون سا قانون ہے کہ آپ پولیس پر حملہ کریں اور کارروائی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، آوارہ کتے کے کاٹنے کا شکار 17 سالہ لڑکی انتقال کرگئی

احتجاج کا حق مانگنے کی بات

قبل ازیں سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہفتہ کو کراچی کے مسائل کے لیے احتجاج کیا، کراچی جو ٹیکس دیتا ہے اس میں سے اپنا حق مانگ رہے تھے۔ ہم کراچی کے شہریوں کیلئے پانی مانگ رہے تھے۔ احتجاج کا حق بھی چھیننا چاہتے ہو کیا؟ سندھ حکومت سے جواب نہ مانگیں تو کس سے مانگیں؟ مجھے ایک ہفتے میں دو بار لاک اپ کیا گیا، دہشت گردی کی دفعات والی روایات ختم کریں، میرے اوپر دہشت گردی کا مقدمہ درج کریں، کارکنان کو چھوڑیں، میں ان کو لیڈ کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ساری عمر ابا جی کو تنخواہ امی جی کے ہاتھ میں دیتے دیکھا اپنی ضرورت کیلئے بھی انہی سے پیسے لیا کرتے، سوچ رکھا تھا شادی کے بعد میں بھی ایسا ہی کروں گا۔

پولیس تشدد کا ذکر

جماعت اسلامی کے ایم پی اے نے کہا کہ کراچی کو حق نہیں دیتے تو احتجاج کا حق تو دے دیں، محمد فاروق نے پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے کارکنان کی تصاویر بھی ایوان میں دکھا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: قاسم خان نے عمران خان کا پیغام شیئر کردیا

تحریک انصاف کا موقف

محترم شبیر قریشی، تحریک انصاف کے رکن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں ہمارے ایم پی اے اور رہنماؤں پر پولیس نے تشدد کیا، ایسے افراد جو سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنا رہے، آپ ان کی حمایت کریں گے؟ اگر اسی طرح ہوگا تو سیاسی کارکن کیسے سرگرمیاں کریں گے؟

یہ بھی پڑھیں: بیگم مسعودہ نقشبندی سماجی حلقوں میں جانی پہچانی خاتون تھیں، ان کے ساتھ کام کرنا آسان تھا، میرا قیام راولپنڈی میں طویل ترین رہا۔

شرجیل میمن کی معذرت

شرجیل میمن نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا جس پر ہم شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔ سینئر وزیر ہونے کے ناطے حکومت کی جانب سے معافی مانگتا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں، ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: قانون کے مطابق رن آؤٹ تھے لیکن سپورٹس مین شپ کے لحاظ سے مجھے افسوس ہوا،، بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں سلمان آغا کے رن آؤٹ پر رمیز راجہ کا تبصرہ

پرانے واقعات کا ذکر

جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی، آپ کی حکومت نے ظلم کے پہاڑ گرائے تھے۔ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور میں فریال تالپور کو عید کی رات جیل میں ڈالا گیا، خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ یہ سارے ظلم آپ کی حکومت نے کیے تھے، آپ کی حکومت نے جعلی مقدمے بنائے تھے۔

حکومتی کارروائیوں پر تنقید

سینئر وزیر نے مزید کہا کہ شہریار آفریدی قسم اٹھا کر جھوٹ بولتے تھے، پتہ نہیں کیسے اقتدار میں آئے تھے، ان سارے کاموں کی شروعات آپ نے کی تھی۔ ہماری حکومت میں غلط ہوا تو ہم نے معافی مانگی، ہم میں اتنا دل گردہ ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کو مانتے ہیں۔ بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...