احتجاج کا حق ہے لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے، شرجیل انعام میمن
شرجیل میمن کا احتجاج پر اظہار خیال
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ احتجاج کا حق ہے لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کا نکتہ اعتراض
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ حافظ نعیم سندھ اسمبلی کی رکنیت کا حلف کیوں نہیں لیتے؟ پریس کانفرنس تو روز کر لیتے ہیں۔ عوام کا کیا قصور ہے، چند دن پہلے شاہراہ فیصل پر جلسہ کیا، کوئی اجازت نہیں لی گئی، لوگ رل جاتے ہیں۔ آپ لوگ چاہتے ہو آپکو سرکار سے کوئی اجازت درکار نہیں ہو، سڑکوں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے۔ پولیس نے جماعت اسلامی کے تمام عہدیداران کو کہا تھا کہ آپ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے، ہفتے کے دن اسمبلی بند تھی، آج اسمبلی میں آپ نے بات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حملہ کر کے بھاگ جانے کا دور اب ختم ہوا، مزید کسی بھی جارحانہ اقدام کا مزید طاقتور جواب ملے گا‘‘ : ایرانی فوج نے خبردار کر دیا
پولیس پر پتھراؤ کا الزام
شرجیل میمن نے کہا کہ پولیس والوں پر جماعت اسلامی کے کارکنان پتھرائو کر رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کے سابق ممبر پولیس پر پتھرائو کروانے میں ملوث تھے۔ کیا پولیس والوں کے بچے نہیں ہیں؟ وہ فیملی والے نہیں ہیں؟ زبردستی آپ لوگ ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ پتھراؤ کے لیے لوگوں کو اکسایا جا رہا تھا۔ اسمبلی میں دو گھنٹے تقریر کریں، کس نے منع کیا ہے؟ حکومت کو پیغام پہنچانے کا طریقہ اسمبلی میں بات کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں فضائی معیار میں بتدریج بہتری، اے کیو آئی 160 ریکارڈ، سموگ کی مجموعی صورتحال میں نمایاں کمی
پولیس پر حملے کا سوال
شرجیل میمن نے سابق رکن جماعت اسلامی عبدالرشید کے پولیس پر پتھراؤ کی ویڈیو چلادی اور کہا کہ یہ کون سا قانون ہے کہ آپ پولیس پر حملہ کریں اور کارروائی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد، مکالمے اور اجتماعی عزم کی ضرورت ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی
احتجاج کا حق مانگنے کی بات
قبل ازیں سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہفتہ کو کراچی کے مسائل کے لیے احتجاج کیا، کراچی جو ٹیکس دیتا ہے اس میں سے اپنا حق مانگ رہے تھے۔ ہم کراچی کے شہریوں کیلئے پانی مانگ رہے تھے۔ احتجاج کا حق بھی چھیننا چاہتے ہو کیا؟ سندھ حکومت سے جواب نہ مانگیں تو کس سے مانگیں؟ مجھے ایک ہفتے میں دو بار لاک اپ کیا گیا، دہشت گردی کی دفعات والی روایات ختم کریں، میرے اوپر دہشت گردی کا مقدمہ درج کریں، کارکنان کو چھوڑیں، میں ان کو لیڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
پولیس تشدد کا ذکر
جماعت اسلامی کے ایم پی اے نے کہا کہ کراچی کو حق نہیں دیتے تو احتجاج کا حق تو دے دیں، محمد فاروق نے پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے کارکنان کی تصاویر بھی ایوان میں دکھا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو نے ریکوری کا عمل تیز کردیا،301نادہندگان سےکتنی رقم وصول کرلی۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے
تحریک انصاف کا موقف
محترم شبیر قریشی، تحریک انصاف کے رکن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں ہمارے ایم پی اے اور رہنماؤں پر پولیس نے تشدد کیا، ایسے افراد جو سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنا رہے، آپ ان کی حمایت کریں گے؟ اگر اسی طرح ہوگا تو سیاسی کارکن کیسے سرگرمیاں کریں گے؟
یہ بھی پڑھیں: ممبئی ہائی کورٹ نے 2006 میں ٹرین بم دھماکوں کا فیصلہ سنا دیا، 12 ملزمان بری
شرجیل میمن کی معذرت
شرجیل میمن نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا جس پر ہم شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔ سینئر وزیر ہونے کے ناطے حکومت کی جانب سے معافی مانگتا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں، ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ملاقاتیں پہلے ہو چکی ہوتیں تو اتنی تشویش نہیں ہوتی، بیرسٹر گوہر
پرانے واقعات کا ذکر
جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی، آپ کی حکومت نے ظلم کے پہاڑ گرائے تھے۔ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور میں فریال تالپور کو عید کی رات جیل میں ڈالا گیا، خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ یہ سارے ظلم آپ کی حکومت نے کیے تھے، آپ کی حکومت نے جعلی مقدمے بنائے تھے۔
حکومتی کارروائیوں پر تنقید
سینئر وزیر نے مزید کہا کہ شہریار آفریدی قسم اٹھا کر جھوٹ بولتے تھے، پتہ نہیں کیسے اقتدار میں آئے تھے، ان سارے کاموں کی شروعات آپ نے کی تھی۔ ہماری حکومت میں غلط ہوا تو ہم نے معافی مانگی، ہم میں اتنا دل گردہ ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کو مانتے ہیں۔ بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔








