محسن نقوی کو ٹرافی چور کہنے پر شعیب اختر نے بھارتیوں کو انہی کے چینل پر بری طرح دھو دیا۔
شعیب اختر کا بھارتی ٹی وی پر دھواں دار جواب
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انڈین ٹی وی چینل پر بھارتیوں کو زبردست جواب دیا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب خاتون اینکر نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو "ٹرافی چور" کہا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی آمد پر اقوام متحدہ کا اسکیلیٹر کس نے بند کیا؟ گتھی سلجھ گئی
شعیب اختر کی تنقید اور بھارتی ٹیم کی تعریف
بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں شعیب اختر بطور اینالسٹ موجود تھے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف فتح پر بھارتیوں کو مبارکباد دی اور پاکستانی ٹیم اور پی سی بی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک کرکٹر کو نیوز چینل کا سربراہ بنا دیں تو اس ادارے کا کیا حال ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کا یورپی یونین کی منڈیوں کو گیس کی فراہمی روکنے کا عندیہ
اینکر کی طرف سے ناپسندیدہ بیان
اگرچہ شعیب اختر بھارتی ٹیم کی تعریف کر رہے تھے، لیکن اسی دوران خاتون اینکر نے محسن نقوی کو ٹرافی چور کہہ دیا۔ شعیب اختر نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ ایسی بات نہ کریں کیونکہ آپ کے سامنے شعیب اختر نہیں بلکہ پاکستان موجود ہے۔ آپ پاکستان کے چیئرمین پی سی بی کے بارے میں ایسی بات نہیں کر سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان لڑ پڑے، بات گالم گلوچ تک پہنچ گئی
پروگرام میں بڑھتی ہوئی تپش
پروگرام میں گرمی بڑھنے لگی جب بھارتی پینالسٹ اور اینکر نے اسے ایک سیاسی پروگرام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ شعیب اختر نے بھارتیوں کی خوب کلاس لی اور انہیں زور دار جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری مودی کے نفرت انگیز اور پرتشدد بیانات کا نوٹس لے: پاکستان
شعیب اختر کا بھارتیوں کو چوٹ
شعیب اختر نے کہا کہ ہماری آٹھ ماہ پہلے جنگ ہو چکی ہے جسے ہم نے واضح طور پر جیت لیا ہے۔ اب ہاتھ ملانے کی کیا بات ہے؟ ہمیں تو آپ کے ساتھ کھیلنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ ہم نے آپ کے جہاز گرائے اور یہ دنیا مانتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈراموں کے سیٹ پر سب سے زیادہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، مریم نفیس
بھارت کے کردار پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا کردار صاف نہیں ہے، میں نے بلوچستان پر بات کی تو آپ کو منہ چھپانا پڑنا ہے۔
پیسوں کے طعنے کا جواب
بھارتیوں کی طرف سے پیسوں کے طعنے پر شعیب اختر نے کہا کہ ہمیں آپ کے پیسے نہیں چاہئیں۔ میں نے دس سال سے بھارت میں کام نہیں کیا، کیا میرا گھر نہیں چل رہا؟ ہم نے بنگلہ دیش کے معاملے میں مداخلت کی اور وہاں سے ہرجانہ بھی دلوایا، جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔








