سائبر خطرات کے خلاف ریڈ الرٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک گیر پلان جاری کر دیا
کراچی میں سائبر خطرات کے خلاف ریڈ الرٹ
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پلان جاری کیا ہے۔ یہ اقدامات ملک کے مالی نظام کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ کی تشکیل کا معاملہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر
نیا سائبر شیلڈ سسٹم
یہ پہلا مرتبہ ہے کہ ملک میں سائبر شیلڈ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ سٹیٹ بینک کے وژن 2028 کا حصہ ہے۔ اس سسٹم کی مدد سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے نظام کو زیادہ محفوظ اور طاقتور بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے عوام بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی، صحت و تعلیم کے بحران اور تباہ حال انفراسٹرکچر سے تنگ آ چکے ہیں، مگر وزیراعلیٰ کو نہ عوام کی فکر ہے نہ صوبے کی ترقی کی،طارق فضل چودھری
سائبر حملوں کی برداشت کی صلاحیت
نئے ہنگامی حالات میں سائبر حملوں کی برداشت کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی نوعیت کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔
آن لائن بینکنگ میں بہتری
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، سائبر شیلڈ سسٹم کے نفاذ سے آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس، اور ڈیجیٹل ادائیگیاں نمایاں طور پر محفوظ ہو گئی ہیں۔








