کئی بار اکٹھے ہی گھر جاتے، اسے اس کے گاؤں اتار دیتا۔ راستے میں ہوٹل سے دیسی مرغ کی کڑاہی کھاتے،گرلڈ فش بھی لذت کا نیا اضافہ تھی۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 441
یہ بھی پڑھیں: اب کشتیوں میں ہسپتال: تاریخ میں پہلی بار “کلینک آن بوٹس” سروسز کا آغاز
دفتری عملے کا تعارف
دفتری عملہ؛
- شہباز چیمہ ایکسین: یہ صاحب کمال آدمی تھے۔ شریف، زمیندار، سلجھے ہوئے، سیاحت کے شوقین۔ میں انہیں "مرشد" کہتا تھا۔ خدا ترس اور پنج وقت کے نمازی۔
- شہزاد شاہ: کمپیوٹر آپریٹر، تیز، سمجھ دار نوجوان، اپنا کام جانتا تھا۔
- رانا انجم اکرم: یہ نسلی راجپوت بچہ تھا۔ مجھے پہلے دن ہی اچھا لگا۔ اکثر میں لاہور سے آتے اسے اس کے گاؤں "سالار" سے اپنے ساتھ ہی دفتر لاتا۔ با اعتماد اور ملنسار۔ کئی بار اکٹھے ہی گھر جاتے کہ میں اسے اس کے گاؤں اتار دیتا تھا۔ راستے میں ہوٹل سے دیسی مرغ کی کڑاہی کھاتے۔ یہ ایسی لذیز ہوتی کہ اس کا ذائقہ زبان کو ایسا لگا کہ ہر مہینہ ایک بار اس کی لذت سے محظوظ ہوتے تھے۔ ایک اور ریسٹورنٹ کی گرلڈ فش بھی ہماری لذت کا نیا اضافہ تھی۔
- خدا بخش تارڑ: اسے میں نے ہی سپرنٹندنٹ پروموٹ کیا تھا۔ زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ بس کام چلا لیتا تھا۔ لاہور سے میرے ساتھ ہی گوجرانوالہ آتا جاتا تھا۔
- عتیق: ڈرائیور؛ کام چور، ماٹھا ڈرائیور۔ دراصل یہ ٹریکٹر ڈرائیور تھا۔ سیکرٹری بلدیات کے گاؤں کا رہنے والا تھا یہی اس کی qualification تھی۔
- خرم: ٹیلی فون آپریٹر (یہ تمیز دار بچہ تھا)
- شفیق: یہ بھی کمپیوٹر آپریٹر تھا۔ بھلے مانس اور قابل آدمی۔ ہر سال بھائیوں کے پاس یورپ سیر کو جاتا پھر بیمار ہوا اور یہ سیاحت ہی چھوٹ گئی تھی۔
- صادق: جونئیر کلرک۔ تابعدار بچہ تھا۔
- ارشد فیرو: آپریٹر، ڈرائیونگ بھی کر لیتا تھا۔ بڑا فرماں بردار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے ساحلی علاقے مارماریس میں 5.8 شدت کا زلزلہ
کمشنر کا تعارف
کمشنر کی پوسٹ بھی خالی تھی اور چارج بڑی بڑی مونچھوں والے ڈی سی او گوجرانوالہ جاوید محمود کے پاس تھا۔ وہ رینکر اور اپنے مزاج کے آدمی تھے۔ ان کی دوستی کمشنر کے پی اے رانا یعقوب سے تھی۔ خیر ان سے جوائنگ رپورٹ کے وقت ہی ملاقات ہوئی اور پھر دوبارہ کبھی نہیں کہ اسی دوران ان کی ٹرانسفر ہو گئی اور نئے آنے والے ڈی سی او عظمت محمود سی ایس پی آفیسر اور اچھے انسان تھے۔ بعد میں معلوم ہوا میرے چھوٹے بھائی جیسے دوست قاسم منظور کے کریسنٹ ماڈل سکول کے ہم جماعت تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی خدشات، کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلنے والی تمام ٹرینیں معطل
شمائیل احمد خواجہ
شمائیل احمد خواجہ کمشنر تعینات ہوئے۔ یہ سیالکوٹ شہر کے رہنے والے سی ایس پی آفیسر تھے۔ سول سروس میں شمولیت سے پہلے لندن سے بیر سٹری کر کے وکالت کرتے رہے تھے۔ یہ اپنے مزاج کے انسان تھے۔ دفتر میں انتہائی سنجیدہ، ہنسی کم ہی ان کے چہرے کا رخ کرتی تھی۔ سخت گیر افسر تھے، کام میں perfection چاہتے اور کسی فالتو بات کی اجازت نہ دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: شیر خوار بچوں کی خرید وفرخت میں ملوث گروہ پکڑا گیا ، بیچتے کیسے تھے؟
انتظامی ڈویثرن گوجرانوالہ
انتظامی ڈویثرن گوجرانوالہ 6 اضلاع؛ گوجرانوالہ، نارووال، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد پر مشتمل تھا۔ سیالکوٹ کھیلوں اور آ لآت جراحی بنانے میں عالمی شہرت رکھتا ہے تو گوجرانوالہ سٹیل کے برتن بنانے میں۔ اس کی تحصیل وزیر آباد چاقو چھریاں اور کٹلری کی بدولت مشہور ہے۔ گجرات پنکھا سازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تو اسی ضلع کی تحصیل کھاریاں ریونیو جنرشن کے حوالے سے بہت اہم تھی جہاں کے رہنے والوں کی کثیر تعداد بیرون ملک مقیم زر مبادلہ ملک بھیجتی ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








