بس کے اندر قیامت کا سماں تھا، اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ سامنے ونڈ سکرین کے شیشے ٹوٹنے سے لہولہان ہوگئے،موقع ملا میں بھی کھڑکی سے باہر کود گیا۔
اجزاء اور مصنف
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:60
یہ بھی پڑھیں: کم عمر بچوں کے فیس بک اور ٹک ٹاک استعمال پر پابندی کی درخواست پر جواب طلب
فیلڈ ورک کا آغاز
آٹھویں دن لاہور سے آفیسر انچارج محمد فاروق صاحب کام کی پڑتال کے لیے تشریف لائے تو مجھ سے پوچھا کہ "فیلڈ ورک کی کچھ سوجھ بوجھ ہوئی ہے؟" میں نے جب تفصیل بتائی تو وہ خاموش ہی رہے۔ کھانا کھا کر اُن کے ساتھ ہم فیلڈ میں گئے۔ تو وہاں انہوں نے بڑی تفصیل سے مجھے کام کے بارے میں بتایا۔ اور کہا کہ آہستہ آہستہ سارے کام کی سمجھ آجائے گی، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس کو تکنیکی خرابی کا سامنا، لاکھوں صارفین متاثر
نئے ریکروٹس اور ماحول کی تبدیلی
چند روز میں کچھ اور نئے ریکروٹس بھی آگئے تو ماحول میں کچھ تبدیلی رونما ہوگئی اور "بھامنیر" کی دی ہوئی خاموشی جاتی رہی اور ماحول میں ایک زندگی لوٹ آئی۔ اب "بھامنیر" بھی اپنے پسندیدہ موضوع پر سیر حاصل لیکچر دینے لگے تھے۔ اپنی عاشقی کے قصّے سناتے۔
یہ بھی پڑھیں: گھوڑے کی عصمت دری کرتے ہوئے آدمی کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آگئی
زندگی کا مختصر جائزہ
8 ماہ کا عرصہ چند دن لاہور میں اور پھر باقی مہینہ فیلڈ میں گزرتا رہا۔ زندگی میں کافی حد تک ٹھہراؤ آگیا تھا۔ سب ساتھی جن میں غلام شبیر بھٹی، چوہدری محمد علی، بھاپا لاہوری اور محمد سعید (شیدا) بڑے پیارے دوست تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران دفتر میں پچھلی طرف تجرباتی پلاٹوں کے بیچوں بیچ رہائش کرلیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
ریسرچ اسسٹنٹ کی تعیناتی
جان بچی سو لاکھوں پائے
1953ء میں بی ایس سی کرنے کے بعد میری تعیناتی بطور ریسرچ اسسٹنٹ "لینڈ ریکلمیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب" میں ہوگئی۔ ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد رہائش اپنے ایک دور کے رشتہ دار ماسٹر عبد الغفور کے ہاں اختیار کرلی۔ 3 ماہ ڈیوٹی دے کر دل چاہا کہ ایک دفعہ والدین سے مل آؤں تو بادامی باغ بس کے اڈہ پر جا پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 2 سوشل میڈیا انفلوئنسر خواتین سے مبینہ زیادتی، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
بس کا حادثہ
لائل پور (اب فیصل آباد) جانے والی بس کا ٹکٹ لے کر سوار ہوگیا۔ گاڑی کے کھچا کھچ بھرنے سے پہلے ہی بس چل دی۔ ساتھ ہی سیٹ پر بیٹھے دیال سنگھ کالج کے پروفیسر جن کا نام نامی اب ذہن سے محو ہوچکا ہے تبادلۂ خیال جاری رہا۔
بس شیخوپورہ شہر سے پہلے گول چکّر سے گھوم کر لائل پور اب فیصل آباد پر فراٹے بھرنے لگی۔ گو گرمی کا موسم تھا لیکن بس کی کھڑکیوں سے آنے والی ہوا اِس شدت کو برابر کم کیے جا رہی تھی۔ بھکھیّ موڑ سے یہی کوئی 2 میل (اب کلو میٹر) آگے بس یک دم بائیں طرف ایک زبردست جھٹکا لگا کر اُلٹ گئی۔ بس کی چھت نیچے تھی اور پہیے اوپر۔
یہ بھی پڑھیں: خط لکھنے والے جج کی قانون اور آئین کی پاسداری تاریخ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، خواجہ محمد آصف
حالت اور بے چینی
بس کے اندر قیامت کا سماں تھا۔ اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ سامنے ونڈ سکرین کے شیشے ٹوٹنے سے لہولہان ہوگئے۔ کچھ اُن شیشوں میں پھنس کر رہ گئے۔ پچھلی ایک طرف کی سیٹیں اپنی جگہ سے اُکھڑ کر بمعہ مسافر دوسری طرف سیٹوں پر ڈھیر ہوئیں۔ چند ایک سیٹیں تھیں جو اپنی جگہ پر قائم رہیں اُن میں خوش قسمتی سے ایک میری سیٹ بھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ضیاء الحق کی حکمت عملی: سوویت افواج کی واپسی اور نئے آزاد ممالک کا جنم
بچنے کی کوشش
میں مخبوط الحواَس سا بیٹھا اپنے ماتھے پر خون کے قطروں جو شیشے کی چھوٹی چھوٹی کنکروں کے لگنے سے پیدا ہوئے تھے، دیکھ کر دل میں کہہ رہا تھا کہ یہ پسینہ کے قطرے ہیں۔
چاروں طرف بس سے باہر نکلنے کی اندھا دھند کوشش جاری تھی۔ ونڈ سکرین جو ٹوٹ پھوٹ کر ایک نوکدار شیشے کا ڈھانچہ بن چکا تھا لوگوں نے اُس میں سے گذر کر باہر نکلنے کی کوشش کی اور بس خون کی دھاریں اُن کا مقدر بنیں اور کئی سانس کی ڈوری وہیں توڑ چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو سونم کیساتھ رومانوی سین کیلئے 5 ماہ تک منانا، لیکن اداکار کی کیا تھی رائے؟ جانئے!
نجات کی لمحہ
میرے قریب واقع کچھ لوگوں نے کھڑکی کھول لی اور وہاں سے چھلانگیں لگانے لگے۔ میں بھی وقفہ کی تاڑ میں تھا جونہی موقع ملا میں بھی کھڑکی سے باہر کود گیا۔ ظاہر ہے میں چت لیٹا ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ میں نے بیٹھنے کی کوشش کی۔ پھر کچھ دیر بیٹھ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تو میں وہیں کھڑا بھی ہوگیا۔ اب مزید دل کی تسلی کے لیے میں پاؤں سے شروع کر کے ٹانگوں، کمر، پیٹ، بازو اور سر کو ٹٹولتا چلا گیا۔ مجھے سب ٹھیک لگا سوائے ماتھے پر شیشے کے ٹکڑے لگنے سے ہلکے ہلکے سے زخم تھے اور خون تھا۔ بہرحال میرا دل مطمئن ہوگیا کہ اللہ کے کرم سے صحیح سلامت بچ گیا ہوں۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








