بس کے اندر قیامت کا سماں تھا، اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ سامنے ونڈ سکرین کے شیشے ٹوٹنے سے لہولہان ہوگئے،موقع ملا میں بھی کھڑکی سے باہر کود گیا۔

اجزاء اور مصنف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:60

یہ بھی پڑھیں: اس کو رگڑ دو’ نجی نیوز چینل کے پروڈیوسر نے لائیو ٹی وی پر اینکر کو دیا گیا پیغام غلطی سے اپنے مہمان میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تک پہنچا دیا

فیلڈ ورک کا آغاز

آٹھویں دن لاہور سے آفیسر انچارج محمد فاروق صاحب کام کی پڑتال کے لیے تشریف لائے تو مجھ سے پوچھا کہ "فیلڈ ورک کی کچھ سوجھ بوجھ ہوئی ہے؟" میں نے جب تفصیل بتائی تو وہ خاموش ہی رہے۔ کھانا کھا کر اُن کے ساتھ ہم فیلڈ میں گئے۔ تو وہاں انہوں نے بڑی تفصیل سے مجھے کام کے بارے میں بتایا۔ اور کہا کہ آہستہ آہستہ سارے کام کی سمجھ آجائے گی، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے خلاف پہلے ون ڈے میں بابر اعظم کا ایک ہاتھ سے شاندار کیچ

نئے ریکروٹس اور ماحول کی تبدیلی

چند روز میں کچھ اور نئے ریکروٹس بھی آگئے تو ماحول میں کچھ تبدیلی رونما ہوگئی اور "بھامنیر" کی دی ہوئی خاموشی جاتی رہی اور ماحول میں ایک زندگی لوٹ آئی۔ اب "بھامنیر" بھی اپنے پسندیدہ موضوع پر سیر حاصل لیکچر دینے لگے تھے۔ اپنی عاشقی کے قصّے سناتے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں۔۔۔؟ اسد قیصر نے واضح الفاظ میں بتا دیا

زندگی کا مختصر جائزہ

8 ماہ کا عرصہ چند دن لاہور میں اور پھر باقی مہینہ فیلڈ میں گزرتا رہا۔ زندگی میں کافی حد تک ٹھہراؤ آگیا تھا۔ سب ساتھی جن میں غلام شبیر بھٹی، چوہدری محمد علی، بھاپا لاہوری اور محمد سعید (شیدا) بڑے پیارے دوست تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران دفتر میں پچھلی طرف تجرباتی پلاٹوں کے بیچوں بیچ رہائش کرلیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہندو انتہا پسندوں کا عیسائی پادری پر بدترین تشدد، چہرے پر سرخ سندور مل دیا، جوتوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا

ریسرچ اسسٹنٹ کی تعیناتی

جان بچی سو لاکھوں پائے
1953ء میں بی ایس سی کرنے کے بعد میری تعیناتی بطور ریسرچ اسسٹنٹ "لینڈ ریکلمیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب" میں ہوگئی۔ ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد رہائش اپنے ایک دور کے رشتہ دار ماسٹر عبد الغفور کے ہاں اختیار کرلی۔ 3 ماہ ڈیوٹی دے کر دل چاہا کہ ایک دفعہ والدین سے مل آؤں تو بادامی باغ بس کے اڈہ پر جا پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی تاریخ سامنے آ گئی

بس کا حادثہ

لائل پور (اب فیصل آباد) جانے والی بس کا ٹکٹ لے کر سوار ہوگیا۔ گاڑی کے کھچا کھچ بھرنے سے پہلے ہی بس چل دی۔ ساتھ ہی سیٹ پر بیٹھے دیال سنگھ کالج کے پروفیسر جن کا نام نامی اب ذہن سے محو ہوچکا ہے تبادلۂ خیال جاری رہا۔
بس شیخوپورہ شہر سے پہلے گول چکّر سے گھوم کر لائل پور اب فیصل آباد پر فراٹے بھرنے لگی۔ گو گرمی کا موسم تھا لیکن بس کی کھڑکیوں سے آنے والی ہوا اِس شدت کو برابر کم کیے جا رہی تھی۔ بھکھیّ موڑ سے یہی کوئی 2 میل (اب کلو میٹر) آگے بس یک دم بائیں طرف ایک زبردست جھٹکا لگا کر اُلٹ گئی۔ بس کی چھت نیچے تھی اور پہیے اوپر۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا اور آخرت کی کامیابی کس کی خدمت میں پوشیدہ ہے؟ شیخ صالح بن حمید نے بتا دیا

حالت اور بے چینی

بس کے اندر قیامت کا سماں تھا۔ اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ سامنے ونڈ سکرین کے شیشے ٹوٹنے سے لہولہان ہوگئے۔ کچھ اُن شیشوں میں پھنس کر رہ گئے۔ پچھلی ایک طرف کی سیٹیں اپنی جگہ سے اُکھڑ کر بمعہ مسافر دوسری طرف سیٹوں پر ڈھیر ہوئیں۔ چند ایک سیٹیں تھیں جو اپنی جگہ پر قائم رہیں اُن میں خوش قسمتی سے ایک میری سیٹ بھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: معروف مذہبی سکالر علامہ طاہر القادری 75 برس کے ہو گئے۔

بچنے کی کوشش

میں مخبوط الحواَس سا بیٹھا اپنے ماتھے پر خون کے قطروں جو شیشے کی چھوٹی چھوٹی کنکروں کے لگنے سے پیدا ہوئے تھے، دیکھ کر دل میں کہہ رہا تھا کہ یہ پسینہ کے قطرے ہیں۔
چاروں طرف بس سے باہر نکلنے کی اندھا دھند کوشش جاری تھی۔ ونڈ سکرین جو ٹوٹ پھوٹ کر ایک نوکدار شیشے کا ڈھانچہ بن چکا تھا لوگوں نے اُس میں سے گذر کر باہر نکلنے کی کوشش کی اور بس خون کی دھاریں اُن کا مقدر بنیں اور کئی سانس کی ڈوری وہیں توڑ چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے سیز فائر کا فیصلہ کرلیا

نجات کی لمحہ

میرے قریب واقع کچھ لوگوں نے کھڑکی کھول لی اور وہاں سے چھلانگیں لگانے لگے۔ میں بھی وقفہ کی تاڑ میں تھا جونہی موقع ملا میں بھی کھڑکی سے باہر کود گیا۔ ظاہر ہے میں چت لیٹا ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ میں نے بیٹھنے کی کوشش کی۔ پھر کچھ دیر بیٹھ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تو میں وہیں کھڑا بھی ہوگیا۔ اب مزید دل کی تسلی کے لیے میں پاؤں سے شروع کر کے ٹانگوں، کمر، پیٹ، بازو اور سر کو ٹٹولتا چلا گیا۔ مجھے سب ٹھیک لگا سوائے ماتھے پر شیشے کے ٹکڑے لگنے سے ہلکے ہلکے سے زخم تھے اور خون تھا۔ بہرحال میرا دل مطمئن ہوگیا کہ اللہ کے کرم سے صحیح سلامت بچ گیا ہوں۔(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...