عماد وسیم نے دوسری شادی کی تصدیق کردی
عماد وسیم کی دوسری شادی کی تصدیق
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عماد وسیم نے دوسری شادی کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ سے تقریباً طلاق کے ڈھائی ماہ بعد شادی کی ہے۔ عماد وسیم کی اپنی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق سے 28 دسمبر 2025 کو طلاق ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
نجی زندگی پر جذباتی بیان
عماد وسیم نے اپنی نجی زندگی اور دوسری شادی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی اور جذباتی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس میں ماضی کی تلخیوں، اپنی غلطیوں اور بچوں سے دوری کے دکھ کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کا آغاز ایک مشکل دور کے تذکرے سے کیا اور بتایا کہ ایک ناکام شادی کے بعد انہوں نے زندگی کا مشکل ترین باب دیکھا۔ تاہم انہوں نے اس رشتے سے اولاد کی صورت میں زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں بھی حاصل کیں، جن سے ان کی محبت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
عماد وسیم نے اعتراف کیا کہ وہ امید کے سہارے ایک ایسے رشتے کو طویل عرصے تک کھینچتے رہے جسے بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اس خاموشی و تاخیر کے نتیجے میں ان کی موجودہ اہلیہ کو عوامی سطح پر تنقید اور ججمنٹ کا نشانہ بننا پڑا، جس کی وہ حقدار نہیں تھیں۔ اس پر وہ دلی طور پر نادم ہیں اور اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا سکوک بانڈ لانچ، دنیا مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن، ملائیشین ماڈل اپنانا ہوگا، وزیر خزانہ
نئی زندگی کا آغاز
عماد وسیم نے اپنی دوسری شادی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے والدین کی دعا اور مرضی سے نائلہ سے شادی کر لی ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے زندگی میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے حصول کے لیے سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ان کی نئی شریک حیات نے ان کی زندگی میں وقار اور مضبوطی لا کر انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہیں۔
کرکٹر نے اپنی اولاد کے حوالے سے شدید دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اپنے بچوں سے ملنے سے قاصر ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگیوں میں صرف پیسہ دینے والے باپ کے طور پر نہیں بلکہ ان کی پرورش اور رہنمائی کے لیے عملی طور پر موجود رہیں۔
مداحوں سے درخواست
اپنے بیان کے اختتام پر، انہوں نے مداحوں اور عوام سے اپیل کی کہ ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے اور ہر معاملے کو عوامی بحث یا تبصرے کا موضوع نہ بنایا جائے۔ کبھی کبھی آگے بڑھنے کے لیے خاموشی اور حدود کا احترام ہی سب سے بہتر راستہ ہوتا ہے۔








