گورنر نے پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) اور غیرمنقولہ جائیداد تحفظ آرڈیننس جاری کر دیئے
گورنر پنجاب کا نیا آرڈیننس
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس اور غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کا کنگ فہد سکیورٹی کالج کا دورہ، اعلیٰ تعلیم کے جدید معیار کو سراہا
ترمیمی آرڈیننس کا مقصد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ترمیمی آرڈیننس سے پنجاب لینڈ ریونیو میں ڈیجیٹل نظام اور جدت کی ترویج ہو گی۔ اس کا مقصد زمین کے مالکان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں کشیدہ صورتحال؛ وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوگئے
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس
پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس میں قبضے کی منتقلی اور زر واصلات منافع کے ساتھ زمین کی تقسیم پر بات کی گئی، اور اپیلوں و نظرثانی کے عمل میں اصلاحات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ جدید الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے سمن، نوٹسز اور اعلان کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کہتے ہیں ساری تکلیفیں برداشت کر لوں گا،بہن نورین نیازی
نئے قانون میں اہم تبدیلیاں
نئے قانون کے تحت زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے قانونی طریقہ کار مرتب کیا جائے گا۔ اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا، اور زمین کے تمام تر انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے۔ پٹواری کو صرف وراثتی انتقال کا اختیار دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، کسی کیس میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، خلیجی ریاستوں کی سیکورٹی صورتحال پر بات چیت
غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ ترمیمی آرڈیننس
غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کے ترمیمی آرڈیننس کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا اور زمبابوے ٹیم کے اعزاز میں شاہین شاہ آفریدی کا عشائیہ، مختلف اقسام کے لذیذ پاکستانی کھانوں کا اہتمام
سکروٹنی کمیٹی کی تفصیلات
سکروٹنی کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او، سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن کے انچارج افسر شامل ہوں گے۔ غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5 سے 10 سال سزا کے علاوہ 10 ملین تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہوگا۔
جھوٹی شکایت کے صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 5 سال تک کی سزا ہوگی۔
پہلے قانون کے تحت شکایت تنازعات کے حل کی کمیٹی کے سامنے کی جاتی تھی، جبکہ اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائے گی، جو 3 دن کے اندر سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کے لیے پابند ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے قومی بچت سکیموں پر منافع کی شرح میں تبدیلی کر دی
ٹریبونل کے فیصلے کی مدت
سکروٹنی کمیٹی 30 دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گی، جبکہ پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مزید 90 دن آگے بڑھائی جا سکتی تھی۔ ٹریبونل 30 دن میں فیصلہ کرے گا، جبکہ پہلے یہ معیاد 90 دن تھی۔ ٹریبونل کو ایک ہی مقدمے میں منسلک جرائم کی سماعت کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے بجائے ٹریبونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے اجراء کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹریبونل کے ممبر ہوں گے، جب کہ پہلے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے۔
قانون میں ترامیم کا پس منظر
خیال رہے کہ جائیداد ملکیت تحفظ کے ایکٹ پر لاہور ہائیکورٹ نے عملدرآمد روک دیا تھا، جس کے بعد ترامیم کی گئیں۔








