کراچی: فائر سیفٹی عمارت کی منظوری اور تکمیلی عمل کا لازمی حصہ قرار
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ترامیم
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں ترامیم کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے ٹیم کے کپتان سکندر رضا کے 13 سالہ بھائی انتقال کرگئے
فائر سیفٹی کی لازمی شمولیت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، ایس بی سی اے کے ریگولیشنز میں ترامیم کے بعد فائر سیفٹی کو عمارت کی منظوری اور تکمیل کے عمل کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان یونس خان کی سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات
فائر فائٹنگ کے تقاضے
پبلک سیل اور صنعتی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے لیے مخصوص زیر زمین اور اوور ہیڈ واٹر ٹینکس لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ ڈرائنگز جمع کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے،وزیرداخلہ محسن نقوی
کمپلیشن پلان کی منظوری
کمپلیشن پلان منظوری کے لیے سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور بلدیاتی اداروں کی این او سیز لازمی قرار دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہر دکان میں کم از کم ایک فائر ایکسٹنگوئشر بھی ہونا ضروری ہوگا۔
ڈپارٹمنٹل اسٹورز اور کمرشل پارکنگ
ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے لیے ہر 400 مربع فٹ رقبے پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، کمرشل علاقوں میں مجموعی پارکنگ کے علاوہ موٹر سائیکل وزیٹر پارکنگ دینے کی بھی ضرورت ہوگی۔








