کراچی: فائر سیفٹی عمارت کی منظوری اور تکمیلی عمل کا لازمی حصہ قرار
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ترامیم
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں ترامیم کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پولیس کا انوکھا کارنامہ، ملزم کی بجائے جج کا نام چوری کے کیس میں ڈال دیا
فائر سیفٹی کی لازمی شمولیت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، ایس بی سی اے کے ریگولیشنز میں ترامیم کے بعد فائر سیفٹی کو عمارت کی منظوری اور تکمیل کے عمل کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مسافر بردار طیارے کی کراچی ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ
فائر فائٹنگ کے تقاضے
پبلک سیل اور صنعتی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے لیے مخصوص زیر زمین اور اوور ہیڈ واٹر ٹینکس لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ ڈرائنگز جمع کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی پروفائل حملے ظاہر کرتے ہیں ’’موساد‘‘ مہارت کے بجائے امریکی خفیہ ایجنسیوں پر منحصر ہے: ’’الجزیرہ‘‘ کی رپورٹ
کمپلیشن پلان کی منظوری
کمپلیشن پلان منظوری کے لیے سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور بلدیاتی اداروں کی این او سیز لازمی قرار دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہر دکان میں کم از کم ایک فائر ایکسٹنگوئشر بھی ہونا ضروری ہوگا۔
ڈپارٹمنٹل اسٹورز اور کمرشل پارکنگ
ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے لیے ہر 400 مربع فٹ رقبے پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، کمرشل علاقوں میں مجموعی پارکنگ کے علاوہ موٹر سائیکل وزیٹر پارکنگ دینے کی بھی ضرورت ہوگی۔








