منشیات مقدمہ، رانا ثنا اللہ نے سابق آرمی چیف کیساتھ ہونیوالی گفتگو کی روداد سنادی۔
رانا ثناء اللہ کی گرفتاری
اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے دور اقتدار میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کو اینٹی نار کوٹکس فورس کی طرف سے گرفتار کیاگیا تھا اور دعویٰ کیاگیا تھا کہ ان کی گاڑی سے منشیات ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے دن کے وقت چاند پر لیزر شعاع بھیج کر خلائی تحقیق میں نئی تاریخ رقم کر دی
جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گفتگو
اس سلسلے میں اس وقت کے آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونیوالی گفتگو رانا ثنا اللہ نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر دنیا کو بتادی۔ سینئر صحافی طلعت حسین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایاکہ کیس کے بعد پارلیمنٹ میں ہونیوالی ایک بریفنگ میں جنر ل باجوہ بطور چیف آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی کی مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہیں ہوگا: بیرسٹر سیف
بریفنگ کے بعد کی صورت حال
فیض حمید نے بطور ڈی جی آئی بریفنگ دی تھی، ان کیمرہ بریفنگ میں تمام پارٹیز کے چھ، سات سینئر رہنما شریک تھے۔ بریفنگ کے بعد چائے والی سائیڈ پر جانے لگے تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا لیکن میں ادھر نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ اسی دوران شہبازشریف کی نظر مجھ پر پڑگئی تو کہا کہ رانا صاحب، آپ بھی آئیں، آپ بھی آئیں، پھر جانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری قوم کی امیدوں اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، نوابزادہ جمال خان رئیسانی
چائے کی تقریب میں گفتگو
آگے پہنچے تو دیگر لوگوں کی طرح میں نے بھی پلیٹ میں ایک دو چیزیں رکھیں اور چائے کا پیالہ پکڑا۔ ارد گرد دیکھا تو اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ سعد رفیق ، قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے تھے۔ میں بھی کھڑا ہوگیا۔ باجوہ صاحب کو ایسی گفتگو کی عادت ہے، مجھے کہتے ہیں کہ واہ رانا صاحب، بڑے صحت مند ہوگئے ہو، جب جیل میں تھے تو بڑے سمارٹ تھے، ساتھ ہی فیض حمید کو کہتے ہیں کہ رانا صاحب کو دوبارہ سمارٹ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ٹرمپ سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے،میرا ووٹ ہوتا توکملا ہیرس کوووٹ دیتی،عظمیٰ بخاری
رانا ثناء اللہ کی باتیں
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھاکہ "میں نے جنرل باجوہ کو کہا کہ آپ مجھے دوبارہ سمارٹ کرلیں، لیکن جو کیس (منشیات برآمدگی) بنایا، وہ آپ کے اور میرے درمیان اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا، اور اسی دنیا میں کرے گا۔" یہ بات سنتے ہی وہ گھبرا گیا اور کہا کہ میں نے نہیں بنایا، لوگ مختلف اطراف سے آرڈرز لے رہے ہوتے ہٰیں۔ میں نے کہاکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے، فوج کے سربراہ آپ ہیں، ایسا ممکن نہیں، اگر آپ کی مرضی کے بغیر کرے تو تیسرے دن اس کا کورٹ مارشل ہوجائے گا۔
سوشل میڈیا پر گفتگو
جنرل باجوہ نےکہاراناصاحب آپ صحت مند ہو گئے ہیں جیل میں تھے توسمارٹ تھے اور پاس کھڑے ISIچیف جنرل فیض کو کہاانہیں پھر سمارٹ کر دیں میں نے کہا اللہ میرےمقدمہ کا حساب تیرےمیرے درمیان اسی دنیا میں کرے گا جس پر جنرل باجوہ گھبرا کر کہنے لگے نہیں نہیں آپ کے خلاف کیس میں نے نہیں بنایا تھا pic.twitter.com/IQxmy37Ozd
— Rafaqat Dogar (@rafaqatdgr) February 21, 2026








