ریسٹ ہاؤس پہنچ کر سب نے پھر پیچھے مڑ کر دیکھا، وہ جن یا بھوت اب پیچھانہیں کر رہا تھا، ڈرے ڈرائے اندر جاکر دم لیا،ورنہ نا جانے کیا حشر کرتے۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 66
مقام کا تفصیلی بیان
جہاں ہم اپنا ڈیرہ جماتے، یہ نہر کا بایاں کنارہ تھا، جدھر ریسٹ ہاؤس موجود تھا اور یہ سارا کاشتہ علاقہ تھا۔ یہ بڑی زرخیز اور سرسبز و شاداب زمین تھی۔ نہر کی پٹڑی بھی اِسی طرف تھی جس پر آمد و رفت ہوسکتی تھی۔ ریسٹ ہاؤسز وہاں تھے جہاں سرکاری آفیسر آکر ٹھہرتے اور اپنی محکمانہ ڈیوٹی انجام دیتے۔ دوسری طرف کا یعنی دائیں کنارے میلوں تک غیر آباد تھا، سیم اور تھور زدہ۔
ایک خوفناک واقعہ
ایک دن حسب معمول، ہم وہاں پہنچے تو ‘نورا’ بیلدار گھڑے پر ایک دو ہاتھ ہی مار پایا تھا کہ دائیں کنارے سے ایک “ہیولا” نہر میں کودا اور سیدھا ہماری طرف رُخ کر گیا۔ سب کو جان کے لالے پڑ گئے۔ کسی نے گِرا اور پھر اُٹھا کر بھاگا۔ ‘نورا’ بیلدار گھڑا وہیں چھوڑ چھاڑ کر سب سے آگے نکل گیا۔ ہم نوجوانوں میں سے دو کے جُوتے بھی وہیں پڑے رہ گئے۔ پیچھے مڑ کر کسی نے جرأت نہ کی۔
ریسٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد
ریسٹ ہاؤس پہنچ کر سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو سب خیریت تھی۔ وہ جِن یا بھوت اب پیچھا نہیں کر رہا تھا۔ سب نے کہا کہ اچھا ہوا، ورنہ ہمیں قابو کر لیتے۔ سب نے یہ مانا کہ کہیں “دیا دلایا” کام آگیا ورنہ آج زندگی کا اختتام ہو جاتا۔
خوف کے اثرات
اب نہر تو کیا، ریسٹ ہاؤس میں بھی ‘نورا بیلدار’ کبھی اپنا گھڑا سنبھالے نہیں آیا۔ کچھ اصحاب اُس کے گھڑے کو منحوس سمجھنے لگے کہ یہ سب اسی کے گانے کی وجہ سے ہوا۔ سب اس ریسٹ ہاؤس سے جلد سے جلد نکلنے کے خواہشمند تھے۔
چوکیدار کی کہانی
ہم نے ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار کو بلایا اور اس واقعے کے بارے میں پوچھا تو اُس کی کہانی اور بھی خوفناک تھی۔ اُلٹا بتایا کہ اُس پار تو دن میں چوروں ڈاکوؤں کا راج ہوتا ہے اور رات کو بد روحوں کا۔ اگلے دن خاکروب سے بھی پوچھا، اُس نے بتایا کہ نہر کے پار کا علاقہ سرکٹی لاشوں کا مشہور ہے۔
رات کی بے چینی
جس رات سَرکٹی لاشوں کا ذکر ہوا، اُس رات کسی کو بھی نیند نہیں آئی۔ صبح جلد ناشتہ کرکے گاڑیوں میں سامان لوڈ کرواتے ہوئے جلد روانہ ہونے کی کوشش کی گئی۔ ریسٹ ہاؤس کے انچارج اوور سیئر نے ہمیں دعا سلام کے بعد یہ کہانی سنائی۔
محکمہ نہر کی احتیاط
اُس نے بتایا کہ محکمہ نہر نے ہر بیس میل پر ایک بیلدار تعینات کیا ہوا ہے تاکہ وہ دن رات چکّر لگاتا رہے۔ اگر کسی جگہ کنارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو یا بریچ کا خطرہ ہو تو فوراً اطلاع دے۔ یہ احتیاط اس لیے ضروری ہے تاکہ مویشیوں کے آنے جانے سے نہر کا کنارہ کمزور نہ پڑ جائے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








