سرگودھا، بڑے سرکاری افسر کے گھر کم عمر ملازمہ سے زیادتی
سرگودھا میں گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی
سرگودھا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک بڑے سرکاری افسر کے گھر میں ملازمت کرنے والی کم عمر گھریلو ملازمہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آنے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں سعید فلرٹ نہیں کرتے، ان کی چھیڑ چھاڑ صرف دوستانہ ماحول میں ہوتی ہیں، مہوش حیات
پولیس کی کاروائی
پولیس کے مطابق بھٹی مارکیٹ کے قریب واقع رہائش گاہ میں کام کرنے والی لڑکی کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ مقدمہ درج کر کے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، 19 سیٹوں والے “کمرشل طیارہ” نے مبینہ طورپر کام شروع کردیا
طبی معائنہ اور ڈی این اے تجزیہ
روزنامہ جنگ کے مطابق متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے اور ملزم کے نمونے ڈی این اے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت، شیخ حسینہ واجد کا ردعمل آ گیا
مدعی کا مؤقف
مدعی، جو کہ متاثرہ لڑکی کے والد ہیں، کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا بیان
دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر پر موجود نہیں تھے اور انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔








