طلباء کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن۔۔۔جامعات میں جاری مظاہروں پر ایرانی حکومت کا رد عمل آ گیا
ایرانی حکومت کا طلباء مظاہروں پر رد عمل
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) جامعات میں جاری طلباء کے مظاہروں پر ایرانی حکومت کا رد عمل آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دفاعی نمائش کا دورہ اور غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں
احتجاج کا حق اور ریڈ لائنز
"جیو نیوز" کے مطابق ایرانی حکومت کے ترجمان نے ملک کے جامعات میں جاری مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ طلباء کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم کچھ ریڈ لائنز ایسی ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
مقدسات اور قومی پرچم کا احترام
ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ مقدسات اور قومی پرچم کا ہر حال میں احترام ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ عمر کے بارے میں غلط اندازے لگاتے ہیں: جیا علی
مظاہروں کی تفصیلات
واضح رہے کہ ایران کی 8 جامعات میں طلباء نے حکومت مخالف احتجاج کیا، جس دوران مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین نے ایرانی حکومت اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ انقلابِ ایران سے پہلے کے شیر اور سورج کی تصاویر والے ایرانی پرچم بھی لہرائے گئے۔ تہران میں گزشتہ روز بڑے پیمانے پر شہریوں کو فارسی زبان میں لکھے ایس ایم ایس بھی موصول ہوئے تھے جن میں لکھا تھا کہ "انتظار کیجیے، صدر ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔"
ماضی کے مظاہروں کی یاد
یاد رہے کہ ایران میں جنوری میں بھی ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا، جس دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ امریکی صدر نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد ایرانی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ نہ روکا گیا تو نتائج بہت بُرے ہوں گے۔








