رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں سرینگر میں مذہبی عبادات پر پابندیاں انتہائی تشویشناک ہیں، دفترِ خارجہ
پاکستان کی شدید مذمت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جامع مسجد سرینگر کی مسلسل بندش پر پاکستان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عبادت گزاروں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکنا مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہندوستان میں مختلف دالیں اور سبزیاں کھا کر پاکستانی کھانوں کی یاد ستا رہی تھی، دستر خوان نعمتوں سے بھرپور تھا، دلوں کی مراد بر آئی۔
غیر قانونی اقدامات کا تسلسل
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آخری جمعہ کے موقع پر سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو بند رکھنا نہایت افسوسناک اقدام ہے۔ بیان کے مطابق وادی کی اس اہم اور مقدس مسجد میں اجتماعی عبادت سے مسلمانوں کو روکنا مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرانسجینڈر ڈاکٹر زین کو گورنرپنجاب کی شاباش، علی پور کے سیلاب متاثرین کے لیے میڈیکل کیمپ اور ریلیف سرگرمیاں کر انسانی حق ادا کردیا
مذہبی عبادات پر پابندیاں
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے بعد یہ ساتواں مسلسل سال ہے کہ قابض انتظامیہ نے جامع مسجد کو بند رکھا اور کشمیری مسلمانوں کو اس روحانی طور پر اہم دن پر نماز کی ادائیگی کے لیے جمع ہونے سے روک دیا۔
عالمی برادری سے اپیل
دفترِ خارجہ نے کہا کہ خصوصاً رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مذہبی عبادات پر اس طرح کی پابندیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اقدامات کا نوٹس لیں اور بھارت پر زور دیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر یقینی بنایا جائے۔








