افغانستان نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے سرخ لکیر عبور کر لی ہے،صدر آصف زرداری
صدرِ مملکت کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ذمے داریوں سے مسلسل مکر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی پنجاب میں گرمیوں کی تعطیلات 22 مئی سے شروع ہوں گی؟ وہ سب کچھ جو آپ کو جان لینا چاہیے
افغانستان کی غیر قانونی حکومت کا رویہ
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان نے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہا ہے، افغان دہشت گرد حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں: مصطفیٰ کمال
پاکستان کی کوششیں
صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ دوسری جانب افغانستان نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے، پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیاء میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے، غیر قانونی، دہشت گرد طالبان حکومت نے یہ سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔
نیک خواہشات اور یقین دہانی
صدرِ مملکت نے ڈرون کے ملبے سے زخمی بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔








