
Rifaximin ایک غیر نظامی اینٹی بایوٹک ہے جو بنیادی طور پر گیسٹروانٹرک انفیکشنز اور خاص قسم کے پیٹ کی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوائی غیر نظامی ہونے کی وجہ سے نظام ہاضمہ میں خاص طور پر مؤثر ہے، اور یہ جسم میں داخل ہونے کے بعد فوری طور پر اپنی کارکردگی شروع کرتی ہے۔ Rifaximin مخصوص بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہے، جو مختلف انفیکشنز کا باعث بن سکتے ہیں۔
استعمالات
Rifaximin مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اہم استعمالات درج ذیل ہیں:
- اسہال: خاص طور پر سفر سے متعلقہ اسہال، جو بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
- پیٹ کی انفیکشنز: مختلف پیٹ کی بیماریوں میں، جہاں بیکٹیریا کی موجودگی ہو۔
- لیور کی بیماری: خاص طور پر لیور کی بیماری کے مریضوں میں، یہ دوا پیٹ کے بیکٹیریا کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔
- نقصان دہ بیکٹیریا کا علاج: ان مریضوں کے لیے جو بیکٹیریا کی زیادتی کی شکایت رکھتے ہیں۔
یہ دوا عمومی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن اس کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: Tercica Tablet کے استعمال اور مضر اثرات
دوائی کا طریقہ کار
Rifaximin کام کرنے کا ایک منفرد طریقہ رکھتی ہے۔ یہ دوا میٹابولزم کے بغیر براہ راست نظام ہاضمہ میں داخل ہوتی ہے، جہاں یہ مخصوص بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہوتی ہے۔ اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کی تفصیل درج ذیل ہے:
عمل | تفصیل |
---|---|
بیکٹیریا کا خاتمہ: | Rifaximin خاص طور پر ان بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہے جو پیٹ کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ |
غیر نظامی اثر: | یہ دوا نظام ہاضمہ میں کام کرتی ہے اور خون کے دھارے میں بہت کم داخل ہوتی ہے۔ |
فاسد بیکٹیریا کی کمی: | یہ خاص بیکٹیریا کی سطح کو کم کرتی ہے، جس سے بیماری کی شدت میں کمی آتی ہے۔ |
Rifaximin کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام طور پر برداشت کرنے میں آسان ہوتی ہے، اور زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفیکٹس کم ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Prelox: استعمال اور سائیڈ ایفیکٹس
مقدار اور استعمال کی ہدایات
Rifaximin کی مقدار کا تعین عام طور پر مریض کی حالت اور بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اس دوا کو ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ عموماً، بالغوں کے لیے Rifaximin کی تجویز کردہ مقدار درج ذیل ہے:
- اسہال کے علاج کے لیے: 200 ملی گرام، دن میں تین بار، 3 دن تک۔
- پیٹ کی انفیکشنز کے لیے: 400 ملی گرام، دن میں دو بار، 14 دن تک۔
- لیور کی بیماری: 550 ملی گرام، دن میں دو بار، 2 ہفتے کے لیے۔
یہ دوا کھانے سے پہلے یا بعد میں لی جا سکتی ہے، مگر بہتر ہے کہ اسے ایک ہی وقت پر لیا جائے۔ اگر آپ کسی خوراک کو بھول جائیں تو اسے جلد از جلد لے لیں، لیکن اگر اگلی خوراک کا وقت قریب ہو تو بھولی ہوئی خوراک چھوڑ دیں۔ دو بار خوراک نہ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: کلسیم کے فوائد اور استعمالات اردو میں
سائیڈ ایفیکٹس
Rifaximin کے استعمال کے دوران کچھ ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس پیش آ سکتے ہیں۔ یہ سائیڈ ایفیکٹس عام طور پر ہلکے ہوتے ہیں، مگر کچھ مریضوں میں یہ شدید بھی ہو سکتے ہیں۔ درج ذیل میں عام سائیڈ ایفیکٹس شامل ہیں:
- متلی: بعض مریضوں کو دوا لینے کے بعد متلی محسوس ہو سکتی ہے۔
- پیٹ درد: کچھ مریضوں کو پیٹ میں درد یا بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔
- دھندلا بصارت: اگر آپ کو نظر میں تبدیلی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
- چھالوں یا خارش: اگر آپ کو جلد پر خارش یا چھالے پڑنے لگیں تو دوا لینا بند کر دیں۔
اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی شدید سائیڈ ایفیکٹس محسوس ہوں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: جرنائیڈ کے فوائد اور استعمالات اردو میں
احتیاطی تدابیر
Rifaximin کے استعمال کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں تاکہ آپ کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ احتیاطی تدابیر درج ذیل ہیں:
- طبی تاریخ: اپنے ڈاکٹر کو اپنی طبی تاریخ، خاص طور پر جگر کی بیماری یا دیگر طبی مسائل کے بارے میں بتائیں۔
- حمل اور دودھ پلانا: اگر آپ حاملہ ہیں یا دودھ پلانے والی ہیں تو اس دوا کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں۔
- دیگر ادویات: اگر آپ کسی اور دوا کا استعمال کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو آگاہ کریں تاکہ ممکنہ تداخل کا جائزہ لیا جا سکے۔
- دوائی کی مقدار: ہمیشہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار پر عمل کریں، خود سے مقدار میں تبدیلی نہ کریں۔
یہ احتیاطی تدابیر Rifaximin کے استعمال کو محفوظ بنانے میں مدد کرتی ہیں، اور مریض کی صحت کے لیے بہت اہم ہیں۔
کون لوگ استعمال نہ کریں
Rifaximin ایک مؤثر دوا ہے، لیکن کچھ مخصوص حالات میں اس کا استعمال منع ہے۔ یہ دوا کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اور ان مریضوں کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ درج ذیل میں ان افراد کی تفصیلات دی گئی ہیں جنہیں Rifaximin کا استعمال نہیں کرنا چاہیے:
- جگر کی شدید بیماری: وہ مریض جنہیں جگر کی شدید بیماری یا فیلیئر کی تشخیص ہوئی ہے، انہیں Rifaximin کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دوا جگر کی فعالیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
- حاملہ خواتین: اگر آپ حاملہ ہیں یا حمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں تو اس دوا کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ یہ دوا جنین پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
- دودھ پلانے والی مائیں: دودھ پلانے والی خواتین کو بھی Rifaximin کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دودھ میں شامل ہو سکتی ہے۔
- الرجی: اگر آپ کو Rifaximin یا اس کی کسی بھی جزو سے الرجی ہے تو اس دوا کا استعمال ممنوع ہے۔
- بیکٹیریل انفیکشن کی دیگر اقسام: اگر آپ کو کسی دوسرے بیکٹیریل انفیکشن کا سامنا ہے، تو Rifaximin کا استعمال تجویز نہیں کیا جاتا۔
ان افراد کے لیے Rifaximin کا استعمال صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ڈاکٹر کی مشاورت کے بغیر یہ دوا استعمال نہ کریں۔