تیل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل نے منافع بڑھانے کا مطالبہ کردیا
تیل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل کی مانگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تیل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل نے منافع بڑھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابائے قوم جانتے تھے کسی ریاست کو مذہب کے نام پر نہیں چلایاجا سکتا،انکی وفات کے بعد ملک میں وہ قانون اور نظریہ نہیں رہا جس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے
خط کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، او سی اے سی نے ڈی جی آئل اور وزارت پیٹرولیم کو خط لکھ دیا ہے۔ اوگرا کا تجویز کردہ 1 روپے 35 پیسے مارجن ناکافی قرار دیا ہے۔ کمپنیوں نے مارجن میں 4 روپے 78 پیسے فی لٹر اضافے کی سفارش کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن سے خوش نہیں، پاگل ہوچکا، روس پر مزید پابندیاں لگائیں گے: ٹرمپ
او ایم سی مارجن میں اضافے کی ضرورت
او سی اے سی کے خط میں کہا گیا ہے کہ او ایم سی مارجن 7.87 روپے سے بڑھا کر 12.65 روپے کیا جائے۔ موجودہ مارجن کے ساتھ 20 دن کا سٹاک برقرار رکھنا مشکل ہے۔ بھاری ٹرن اوور، ٹیکسز اور نقصانات پورا کرنے کے لیے اضافہ ناگزیر ہے۔ اوگرا نے او ایم سی مارجن میں 1.35 روپے فی لٹر کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسکی ایک عجیب کمزوری تھی، خاتون نے راستہ روکتے کہا”آپ باہر تب جا سکتے ہو جب آئی لو یو کہو گے“اُسے اوکھے سوال میں ڈال دیا تھا
ڈیجیٹلائزیشن کا اثر
اضافے میں 50 پیسے پیٹرول پمپوں کی ڈیجیٹیلائزیشن کا خرچ بھی شامل ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول پمپوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا خرچ 12 کروڑ ڈالر سے بڑھنے کا تخمینہ ہے۔ ڈیجیٹالائزیشن کے لیے مارجن میں 50 پیسے فی لٹر اضافہ بھی ناکافی ہے۔ مارجن میں صرف 11 فیصد اضافے سے ڈیجیٹلائزیشن کا خرچہ پورا نہیں ہوگا۔
خسارے کی وجوہات
فنانسنگ کے خرچے بڑھنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔








