کیا شیخ حسینہ بھارت سے دوبارہ بنگلہ دیش کی سیاست میں سرگرم ہو رہی ہیں؟

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے طلبہ کے احتجاج کے بعد اور اپنی حکومت کے خاتمے کے دوران تقریباً چار ماہ تک بھارت میں خاموشی اختیار کی۔ لیکن اب ان کا حالیہ سیاسی بیان توجہ حاصل کر رہا ہے۔
پچھلے ہفتے انہوں نے نیو یارک میں اپنی جماعت عوامی لیگ کے پروگرام میں آن لائن شرکت کی۔ وہ آٹھ دسمبر کو لندن کے پروگرام میں بھی آن لائن شرکت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
شیخ حسینہ نے اس سے قبل دو یورپی ممالک میں منعقد ہونے والے پروگرامز میں بھی گفتگو کی تھی۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی نیشنل پارٹی کا خیال ہے کہ شیخ حسینہ ایسے بیانات دے کر دوبارہ سیاست میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مگر کیا وہ واقعی دوبارہ بنگلہ دیش کی سیاست میں فعال کردار ادا کریں گی؟
سیاسی طور پر متحرک
بعض مبصرین نے شیخ حسینہ کے بیانات کو دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔
تاہم عوامی لیگ کے سیکریٹری خالد محمود چوہدری نے کہا کہ 'عوامی لیگ ہمیشہ سے سیاست میں سرگرم رہی ہے۔'
شیخ حسینہ نے نیو یارک میں تقریب کے دوران کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اور ان کی بہن شیخ ریحانہ کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔
خالد محمود چوہدری نے کہا کہ 'شیخ حسینہ جو کچھ بھی کہتی ہیں وہ ملک کے مفاد میں کہتی ہیں۔ ملک اب شرپسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ عوامی لیگ کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی سلامتی اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ عوامی لیگ ملک کی تعمیر میں شریک رہی ہے۔'
اس درمیان جمعرات کو بنگلہ دیش کے سرکاری ادارے 'انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل' (آئی سی ٹی بنگلہ دیش) نے نیو یارک کے پروگرام میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے دی گئی تقریر پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عوامی لیگ کی سابقہ حکومت کے دوران خالدہ ضیا کی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی جانب سے دیے گئے ہر قسم کے بیانات پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ تاہم ہائی کورٹ نے رواں برس اگست میں اس حکم کو کالعدم کر دیا تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ طارق رحمان بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ ایک طویل عرصے سے حریف ہیں۔
دوسری جانب محمود چوہدری نے شیخ حسینہ کی تقاریر پر پابندی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'آزادی اظہار کی خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عوامی لیگ کو اپنے قیام کے بعد سے اس قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے تمام حدیں پار کر دی ہیں، عمران خان سے رہنمائی لیں گے
شیخ حسینہ کی تقریر پر ردعمل
عوامی لیگ کا کہنا ہے کہ 'وہ تمام مشکل حالات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرے گی۔'
لیکن مصنف اور محقق محی الدین احمد کہتے ہیں کہ 'شیخ حسینہ یا ان کی عوامی لیگ پارٹی کے رہنما جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔'
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حریف جماعت بی این پی کے قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے Uses in Urdu بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'شیخ حسینہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ بنگلہ دیش کی سیاست کے لیے نفرت انگیز تقریر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے رہی ہیں۔'
صلاح الدین احمد کے مطابق شیخ حسینہ اس طرح کے بیانات کے ذریعے سیاست میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ان کے بیانات بنگلہ دیش کے عوام کے مفادات کے خلاف ہیں اور بنگلہ دیش کی آزادی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم اسے سیاست نہیں کہہ سکتے۔'
صلاح الدین احمد نے شیخ حسینہ کی مبینہ ’نفرت انگیز تقریر‘ کی اشاعت پر پابندی کے عدالتی حکم کو 'درست' اور 'قابل تائید' قرار دیا ہے۔
ملک کی دیگر جماعتوں کے سیاسی اتحاد عوامی یکجہتی موومنٹ کے چیف کنوینر جنید ساقی نے کہا ہے کہ 'گذشتہ جولائی اگست میں ان کی حکومت نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی۔ ان کے پاس ملک میں ہلاکتیں کرنے اور فرار ہونے کے بعد سیاست کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس واقعے کے بعد شیخ حسینہ اور ان کی پارٹی چاہے کچھ بھی کر لے، وہ اپنی باتوں سے بنگلہ دیش کے عوام کو گمراہ نہیں کر سکیں گی۔ کیونکہ ان کے تمام راز افشا ہو چکے ہیں۔'
جنید ساقی الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شیخ حسینہ 'ہندو برادری پر حملوں کو اکسا رہی ہیں۔'
شیخ حسینہ اور انڈیا بنگلہ دیش تعلقات
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں خارجہ امور کے مشیر توحید حسین نے شیخ حسینہ کے انڈیا جانے اور مختلف مواقع پر بیان دینے کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔
عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد توحید حسین نے انڈین ہائی کمشنر سے کہا تھا کہ شیخ حسینہ کو انڈیا میں بیٹھ کر سیاسی بیانات نہیں دینا چاہیے۔
بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کے ابتدائی دنوں میں شیخ حسینہ کی انڈیا سے براہ راست تقریر نہیں دیکھی گئی، لیکن انہوں نے وہاں سے وقتاً فوقتاً دو تحریری بیانات جاری کیے اور اب وہ نیویارک میں آن لائن پروگرام میں شریک ہوئی ہیں۔
Uses in Urdu نے توحید حسین اور دیگر سرکاری اہلکاروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ شیخ حسینہ کے حالیہ بیانات کے بارے میں حکومت کا موقف معلوم ہو سکے۔
بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کا جائزہ لینے والے تجزیہ کار محی الدین احمد کہتے ہیں کہ 'بیرون ملک سے کچھ لوگ محفوظ پناہ گاہوں سے بنگلہ دیش کے بارے میں یہ مہم چلا رہے ہیں۔ یہ سب انڈیا کا لکھا سکرپٹ ہے۔'
انہوں نے شیخ حسینہ کو اس سکرپٹ کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'انڈیا کی تشویش یہ ہے کہ جس عسکری اور اقتصادی فائدے کی وہ توقع کر رہا تھا، وہ اب تبدیل ہو رہا ہے۔'
لیکن اگر شیخ حسینہ کا بیان کسی سکرپٹ کا حصہ ہے تو بنگلہ دیش اسے روکنے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟
محی الدین احمد کا کہنا ہے کہ 'اگر وہ (عبوری حکومت) جواب نہیں دیتی تو یہ موجودہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک چیلنج ہوگا، اگر وہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ممکنہ طور پر وہ جوابی پروپیگنڈے کا سہارا لیں گے۔'
انہوں نے کہا کہ 'جو سیاسی جماعتیں عوامی لیگ کی مخالف ہیں، ان کی بھی بیرون ملک شاخیں موجود ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جماعتیں اس پروپیگنڈے کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟'
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انڈیا بنگلہ دیش کی طرف 'جارحانہ رویہ' اپناتا ہے تو اسے مستقبل میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔