اور اب این ایف سی پر نظر ثانی کا معاملہ اٹھ گیا ؟
قومی مالیاتی کمیشن پر نظر ثانی کا معاملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اور اب قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) پر نظر ثانی کا معاملہ اٹھ گیا؟
یہ بھی پڑھیں: چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا دورۂ امریکہ، بحری و سول قیادت سے اہم ملاقاتیں
وفاقی سیکرٹری خزانہ کا بیان
تفصیلات کے مطابق وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کہا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ فنڈز صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا، جو کہ چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر نے پھر کیا ٹرمپ کے سامنے سرنڈر
صوبوں کے تحفظات
"این این آئی" کے مطابق اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے سوال اٹھایا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) پر صوبوں کے تحفظات کب دور کیے جائیں گے؟ سینیٹر شبلی فراز نے مزید کہا کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں زیادہ ترقیاتی فنڈز خرچ کرکے شدت پسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور خیبرپختونخوا کو اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔
اجلاس کی مزید تفصیلات
سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ وزارت خزانہ کے پاس جتنے فنڈز ہیں ان میں سے ہی رقم صوبوں میں تقسیم ہوگی۔ اگر کسی صوبے میں آبادی یا فارمولا کے اعداد و شمار تبدیل ہو جائیں تو نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔








