یمن کے صوبے صنعا میں امریکی فضائی حملہ، 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
یمن میں امریکی فضائی حملہ
صنعا(ڈیلی پاکستان آن لائن )یمن کے صوبے صنعا میں امریکی فضائی حملے میں 5 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے، علی امین گنڈا پور
حوثیوں کا دعویٰ
نجی ٹی وی جیونیوز نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے صنعا کے علاقے بنی مطر میں ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا۔ حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے دعویٰ کیا کہ صنعا صوبے میں امریکی حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 13 افراد زخمی بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: راول ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، سپیل ویز کھول دیئے گئے
دیگر نشانے
اس کے علاوہ حوثی اکثریتی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ امریکی طیاروں نے صعدہ اور حدیدہ کو بھی نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے بجائے جہنم میں رہنا پسند کروں گا، یورپی ڈاکٹر کا دل دہلا دینے والا بیان
فضائی حملوں کا پس منظر
یاد رہے کہ یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے جاری ہیں جن کا الزام امریکا پر عائد کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ امریکا نے 15 مارچ سے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تاکہ انہیں اہم انٹرنیشنل بحری راستوں میں جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اپریل میں فی تولہ سونا 20 ہزار 800 روپے مہنگا ہو گیا
حوثیوں کے حملے
حوثی باغی بھی نہ صرف امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں بلکہ اسرائیل پر بھی حملے کر چکے ہیں۔ وہ ان کارروائیوں کو غزہ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی قرار دیتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
حوثیوں نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد بحیرہ احمر، خلیج عدن اور اسرائیلی سرزمین کی جانب جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا تاہم جنوری میں عارضی جنگ بندی کے دوران یہ حملے روک دیے گئے تھے۔ مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے غزہ کی تمام تر رسد بند کر دی اور 18 مارچ کو اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں، جس سے مختصر جنگ بندی بھی ختم ہو گئی۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ دوبارہ شروع ہونے پر حوثیوں نے بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی، جس کے بعد امریکا نے بھی ان پر فضائی حملوں کا آغاز کیا۔








