معاہدے ہو جاتے ہیں، سسٹم نہیں آتے” بھارتی ایئر چیف نے شکست کا اعتراف کر لیا؟
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا اظہار تشویش
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اہم فوجی سازوسامان کی خریداری میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی منصوبوں کی بروقت تکمیل ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ایسا کوئی منصوبہ یاد نہیں آتا جو وقت پر مکمل ہوا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام ڈرامہ : بھارتی میڈیا نے 27 افراد کی لاشیں کیوں نہیں دکھائیں۔۔۔؟ دفاعی ماہرین نے سنجیدہ سوال اٹھا دیئے۔۔۔۔ حقائق پر مبنی ویڈیو بھی دیکھیں
دفاعی معاہدات کی بروقت تکمیل کی ضرورت
نئی دہلی میں منعقدہ سی آئی آئی اینول بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا وعدہ ہی کیوں کیا جائے جسے پورا نہیں کیا جا سکتا؟ انہوں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاہدے پر دستخط کرتے وقت ہی ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ بروقت مکمل نہیں ہو پائے گا، لیکن پھر بھی ہم دستخط کر دیتے ہیں اور بعد میں دیکھنے کا سوچتے ہیں، جس کے نتیجے میں پورا عمل متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف میں اضافے کے اعلان کے بعد ایپل نے 600 ٹن آئی فون بھارت سے امریکا پہنچادیئے
ہندوستان ایروناٹکس کی تاخیر
انڈین ایکسپریس کے مطابق ان کا اشارہ ممکنہ طور پر ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے 83 لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ (تیجس ایم کے 1 اے) کی تاخیر سے ترسیل کی طرف تھا، جس کا معاہدہ 2021 میں کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایچ اے ایل کے ساتھ 70 ایچ ٹی ٹی 40 بیسک ٹرینر طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جن کی پہلی کھیپ ستمبر میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اور راولپنڈی میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف آپریشن، سینکڑوں افغان باشندے گرفتار
فضائپیشانی کی اہمیت
ایئر پاور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فوجی کارروائی فضائی قوت کے بغیر ممکن نہیں، اور حالیہ آپریشن سندور اس کی واضح مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی نیوی کا ہیڈکوارٹرز تباہ کردیا، ڈونلڈ ٹرمپ
میک ان انڈیا کا عملی نفاذ
انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف پیداوار پر زور دینا ہے بلکہ خود انحصاری کے لیے ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کی صلاحیت بھی اپنے ملک میں پیدا کرنا ہوگی۔ فضائیہ کے سربراہ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ صرف 'میک ان انڈیا' پر بات نہ کی جائے بلکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بار کونسل نے رجب بٹ کے حق میں پیش ہونے والے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کردیا
مسلح افواج اور دفاعی صنعت کا تعاون
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج اور دفاعی صنعت کے درمیان اعتماد، کھلی اور صاف گوئی پر مبنی رابطہ ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، بھارتی فضائیہ 'میک ان انڈیا' پروگرام میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں باپ اور 2 بیٹوں کے قتل کا معمہ حل، خاتون سمیت 2 ملزم گرفتار
عادتی مسائل اور مستقبل کی تیاری
ایئر چیف مارشل نے اعتراف کیا کہ ماضی میں فضائیہ کی توجہ زیادہ تر غیر ملکی سازوسامان پر مرکوز تھی، لیکن موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ‘آتم نربھرتا’ یعنی خود انحصاری ہی واحد راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار: پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد ایس سی او اجلاس میں سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے
فوری ضروریات کی تکمیل
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل کے لیے تیار ہونا ہے، لیکن جو صلاحیت آج درکار ہے وہ آج ہی حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگرچہ اگلے 10 سالوں میں ملکی صنعت اور ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سے بہتر نتائج کی امید ہے، لیکن فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتار ‘میک ان انڈیا’ منصوبے شروع کیے جانے چاہئیں، جبکہ 'ڈیزائن ان انڈیا' کے طویل مدتی منصوبے مستقبل میں نتائج دیں گے۔
بھارتی فضائیہ کو درپیش چیلنجز
واضح رہے کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز پہلے ہی بھارتی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 7 مئی کو ہونے والی ڈاگ فائٹ میں بھارتی فضائیہ نے چھ طیارے گنوائے جن میں تین جدید ترین رافیل بھی شامل تھے۔








