معاہدے ہو جاتے ہیں، سسٹم نہیں آتے” بھارتی ایئر چیف نے شکست کا اعتراف کر لیا؟

بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا اظہار تشویش

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اہم فوجی سازوسامان کی خریداری میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی منصوبوں کی بروقت تکمیل ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ایسا کوئی منصوبہ یاد نہیں آتا جو وقت پر مکمل ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے دھچکا قرار دیدیا

دفاعی معاہدات کی بروقت تکمیل کی ضرورت

نئی دہلی میں منعقدہ سی آئی آئی اینول بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا وعدہ ہی کیوں کیا جائے جسے پورا نہیں کیا جا سکتا؟ انہوں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاہدے پر دستخط کرتے وقت ہی ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ بروقت مکمل نہیں ہو پائے گا، لیکن پھر بھی ہم دستخط کر دیتے ہیں اور بعد میں دیکھنے کا سوچتے ہیں، جس کے نتیجے میں پورا عمل متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو شکست دے دی

ہندوستان ایروناٹکس کی تاخیر

انڈین ایکسپریس کے مطابق ان کا اشارہ ممکنہ طور پر ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے 83 لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ (تیجس ایم کے 1 اے) کی تاخیر سے ترسیل کی طرف تھا، جس کا معاہدہ 2021 میں کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایچ اے ایل کے ساتھ 70 ایچ ٹی ٹی 40 بیسک ٹرینر طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جن کی پہلی کھیپ ستمبر میں متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوٹ ادو: تیز رفتار کار اور رکشہ کے درمیان تصادم، 4 جانیں ضائع

فضائپیشانی کی اہمیت

ایئر پاور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فوجی کارروائی فضائی قوت کے بغیر ممکن نہیں، اور حالیہ آپریشن سندور اس کی واضح مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی سپورٹس کونسل میں عرب کلاسک دبئی-2024 بیس بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب

میک ان انڈیا کا عملی نفاذ

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف پیداوار پر زور دینا ہے بلکہ خود انحصاری کے لیے ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کی صلاحیت بھی اپنے ملک میں پیدا کرنا ہوگی۔ فضائیہ کے سربراہ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ صرف 'میک ان انڈیا' پر بات نہ کی جائے بلکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نصب العین عدل و انصاف پر مبنی ریاست کی تعمیر و ترقی تھا، وکلاء برادری کو غیر سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

مسلح افواج اور دفاعی صنعت کا تعاون

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج اور دفاعی صنعت کے درمیان اعتماد، کھلی اور صاف گوئی پر مبنی رابطہ ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، بھارتی فضائیہ 'میک ان انڈیا' پروگرام میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں مسلسل ہوشربا اضافے کے بعد معمولی کمی

عادتی مسائل اور مستقبل کی تیاری

ایئر چیف مارشل نے اعتراف کیا کہ ماضی میں فضائیہ کی توجہ زیادہ تر غیر ملکی سازوسامان پر مرکوز تھی، لیکن موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ‘آتم نربھرتا’ یعنی خود انحصاری ہی واحد راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی چینی سائنس دان نے دو بچیوں کے ڈی این اے سے چھیڑچھاڑ کی؟

فوری ضروریات کی تکمیل

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل کے لیے تیار ہونا ہے، لیکن جو صلاحیت آج درکار ہے وہ آج ہی حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگرچہ اگلے 10 سالوں میں ملکی صنعت اور ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سے بہتر نتائج کی امید ہے، لیکن فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتار ‘میک ان انڈیا’ منصوبے شروع کیے جانے چاہئیں، جبکہ 'ڈیزائن ان انڈیا' کے طویل مدتی منصوبے مستقبل میں نتائج دیں گے۔

بھارتی فضائیہ کو درپیش چیلنجز

واضح رہے کہ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز پہلے ہی بھارتی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 7 مئی کو ہونے والی ڈاگ فائٹ میں بھارتی فضائیہ نے چھ طیارے گنوائے جن میں تین جدید ترین رافیل بھی شامل تھے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...