جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتے ہیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا
جنرل ساحر شمشاد مرزا کی تشویش
سنگاپور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کئی غیر حل شدہ تنازعات ہیں جو کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکی پر 80 برس کے بزرگ کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج
شنگریلا ڈائیلاگ میں اہم اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے یہ بات سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک اہم خطاب میں کہی، انہوں نے فورم پر جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل کے حوالے سے 8 اہم نکات پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دوستی کی علامت کو بھی نہ بخشا، شیخ زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ
جوہری طاقتیں اور مسئلہ کشمیر
انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک کو مضبوط بنانے کے لیے جنوبی ایشیا کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جنوبی ایشیا میں دو اہم جوہری طاقتیں پاکستان اور بھارت موجود ہیں جن کے درمیان مسئلہ کشمیر اب تک حل طلب ہے، جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صنعتی بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کیلئے نیا طریقہ کارمتعارف
تنازعات کی پیچیدگیاں
جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کئی دوسرے حل طلب مسائل بھی پائے جاتے ہیں، یہ تنازعات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، اس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، ہمیں ادارہ جاتی پروٹوکول، ہاٹ لائنز کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیلی شہریوں کو حیفہ خالی کرنے کا حکم دے دیا
جغرافیائی تناؤ
انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا پیسیفک اب اکیسویں صدی کا جیوپولیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، جہاں سٹریٹجک کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خطے میں بحرانوں سے نمٹنے کے ادارہ جاتی نظام نہ صرف نازک ہیں بلکہ غیر مساوی بھی ہیں، جس کی وجہ سے تنازعات کی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر مکالمہ اور تعاون کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کے لیے پاکستانی قونصلہ جنرل کا دبئی میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے کا دورہ، تاثرات درج کیے۔
پائیدار کرائسس مینجمنٹ کی ضرورت
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ پائیدار کرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، واضح ریڈ لائنز اور مساوی رویہ ناگزیر ہے، جب تک فریقین کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا، کوئی بھی سٹریٹجک فریم ورک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات کل شروع، 23 مئی تک جاری رہیں گے
ایڈہاک اقدامات کی ناکافی مگر عملی ضرورت
انہوں نے خبردار کیا کہ ایڈہاک اقدامات ناکافی ہیں، خطے کو ایسے ادارہ جاتی پروٹوکولز، فعال ہاٹ لائنز، کشیدگی میں کمی کے لیے طے شدہ طریقہ کار اور مشترکہ کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں، سب کو اصولوں پر چلنا چاہئے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی
جدید چیلنجز
جنرل ساحر شمشاد نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور رئیل ٹائم بیٹل فیلڈ سرویلنس جیسے جدید حربے سٹریٹجک فیصلوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، اس لیے کرائسس مینجمنٹ میکنزم میں ان جدید حقیقتوں کو شامل کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے اعلیٰ سطح کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
بین الاقوامی اصول اور مذاکرات
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت اور مفادات اب اخلاقیات، اصولوں، ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور انصاف جیسے اقدار سے بالاتر ہو چکے ہیں، نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے نہیں بلکہ پُراعتماد مکالمے اور مؤثر سٹریٹجک کمیونیکیشن سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، غلط فہمیاں اور گمراہ کن معلومات کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن نے کراچی میں پنک بس سروس کا نیا روٹ شروع کرنے کا اعلان کردیا
بھارت کا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور آگاہ کیا کہ جنوبی ایشیائی خطے میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا زائد بجلی کو نئی معیشت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
پاکستان کا امن کا خواہاں
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت سے باعزت، برابری اور احترام پر مبنی مستقل امن کا خواہاں ہے، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، جس کا حل ناگزیر ہے، پاکستان اصولوں پر مبنی ایسا عالمی نظام چاہتا ہے جو خودمختاری اور ضبط و تحمل پر قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال، متعدد بس اڈے بند، مسافر پریشان
منصوبوں کا خطرہ
انہوں نے کہا کہ پہلگام کے بعد پاک بھارت جنگ کی صورتحال خطے کی ترقی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، بحران سے نمٹنے کا مؤثر نظام نہ ہونے سے عالمی طاقتیں بروقت مداخلت سے قاصر ہیں، پاکستان کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوشش قومی سلامتی کمیٹی کے مطابق جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
عالمی مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا، پاکستان مسلسل بھارت اور عالمی برادری سے باضابطہ مذاکراتی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے، برابری، اعتماد اور حساسیت کی پاسداری کے بغیر کوئی بھی بحران مؤثر طور پر حل نہیں ہو سکتا۔








