ہم وفاق کو قرض دینے کی حیثیت رکھتے ہیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
صوبے کا ریونیو اور معیشت کی بہتری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے کے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے اور اب ہم وفاق کو قرض دینے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمارا بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہوگا جس میں عوام کو ریلیف دیں گے اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اراکین کانگریس کے عمران خان کی رہائی کیلئے لکھے گئے خط کا ڈراپ سین
روزگار کے منصوبے اور ہیومن ڈیولپمنٹ
انہوں نے کہا کہ روزگار کے پہلے جو پراجیکٹس چل رہے ہیں جن میں لوگوں کو بلاسود قرضہ دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کررہے ہیں، اس پر بھی کام ہوگا اور ہم ہیومن ڈیولپمنٹ پر دوبارہ فوکس کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کے جو ایسے پراجیکٹس جن سے معشیت بہتر ہوگی اور روزگار میں اضافہ ہوگا، اس پر فوکس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی وی چینلز میرے والدین کو فون کر کے پوچھ رہے ہیں کہ۔۔۔‘ اداکارہ علیزے شاہ کا حیران کن دعویٰ
تعلیمی ایمرجنسی اور معیار کی بہتری
مزید کہا کہ ہمارے میگا پراجیکٹس میں تعلیم شامل ہے، تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے جس کے تحت اسکول نہ جانے والے طلبہ کی تعداد کم کریں گے اور ساتھ ہی تعلیم کا معیار بھی بہتر کریں گے، صرف ڈگری دینا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ اس ڈگری کی قدر بڑھانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچ گیا
صحت اور زراعت کی بہتری
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم صحت پر بھی فوکس کریں گے اور جن علاقوں میں صحت کی ضروریات کی کمی ہے اس کو فوری طور پر پورا کریں گے، جب کہ ہم زراعت پر بھی فوکس کریں گے اور بجلی سے متعلق پراجیکٹس بھی شامل ہیں۔ سوات سمیت دیگر موٹرویز پر بھی کام ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں، نماز جمعہ کے دوران حملہ افسوسناک ہے: عطاتارڑ
معاشی حالات کا جائزہ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس وقت جو معاشی حالات ہیں ان کو دیکھ کر تمام صوبوں کو عمران خان کے ویژن کے مطابق اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا کیوں کہ مقروض قومیں کبھی بھی خود مختار اور خدار نہیں ہوسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: میچ ریفری کا تنازع شدت اختیار کر گیا، پاکستان اپنے موقف پر قائم، آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا
این ایف سی اور قرضوں کی صورتحال
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شکر ہے ہمارا صوبہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا ہے اور وفاقی حکومت کی تو یہ حالت ہے کہ وہ ہم سے امداد مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی بہت ضروری ہے جو 15 سال سے نہیں ہوئی، جس سے ہمارے ضم اضلاع کے پیسے ہمیں نہیں مل رہے، اب فیصلہ ہوا ہے کہ اگست میں این ایف سی ہوگی تو اس میں ہمارے صوبے کا آئینی حق ہمیں مل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دورہ چین، پانچویں روز بھی بھرپور مصروفیت، ہواوے کے تعاون سے لاہور کو پہلا جدید ترین سمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ
افغانستان کے معاملات اور مذاکرات
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پہلے دن سے ہمارا یہی ایجنڈا اور ویژن ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوں۔ وفاقی حکومت نے جو مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے، جرگے میں دوبارہ ان سے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔
عدلیہ سے متعلق خیالات
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی عدلیہ سے منسلک ہے اور ہماری عدلیہ آزاد ہی نہیں ہے۔ وہ مزید کہا کہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں ان پر کوئی کیس نہیں اور ہم نے پورے پاکستان میں تحریک شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔








