مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ؟ امریکا نے اہم قدم اٹھا لیا
امریکا کی غیر سفارتی عملے کے انخلا کی منظوری
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آئین ہمیں جلسے جلوس کرنے کی اجازت نہیں دیتا؟ اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں سوال اٹھا دیا
وزیر دفاع کی منظوری
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق وزیر دفاع نے اس فیصلے کی منظوری دی ہے تاکہ فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: فتح اللہ گولن کی وفات: ترکی کا طاقتور شخصیت جس پر فوج کو صدر اردوغان کے خلاف بغاوت کیلئے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا
سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) خطے میں موجود اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے: جسٹس طارق محمود
بہرین اور عراق سے انخلا
مزید یہ کہ امریکا نے بحرین اور عراق سے بھی اپنے غیر سفارتی عملے کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے سکیورٹی خدشات کی مخصوص وجوہات ظاہر نہیں کیں۔
قابل ذکر فیصلہ
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔








