اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا عندیہ
ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کا نشانہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیے۔ ہم نے ایران کے سرکردہ ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اور لاہور ریجن کے مخصوص فضائی روٹس کو مختلف اوقات میں بند کرنے کا فیصلہ
خامنی کا قتل اور تنازع کا خاتمہ
نیتن یاہو نے بیان دیا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا جائے تو یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کا "خاتمہ" ثابت ہوگا، نہ کہ اس میں شدت کا باعث۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، 100 انڈیکس میں 4400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
ایرانی مذاکرات کی پیشکش کا مسترد کرنا
انہوں نے ایران کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف جھوٹے وعدوں اور دھوکہ دہی کے ذریعے امریکہ کو الجھانا چاہتا ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں مصدقہ انٹیلیجنس موجود ہے کہ ایران صرف وقت ضائع کر رہا ہے۔
خطرات کی نشاندہی
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ عرب ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے بھی ایک حقیقی خطرہ ہے۔








