وزیراعظم کی 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی بڑی ہدایت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: سب کو ہوسٹل سے نکال دیا گیا، ایک ”وڈیرہ“ ڈٹا رہا،گارنٹی دیتے ہیں لڑکے شرارت نہیں کریں گے، امن سے رہیں گے، موت کا سا سکوت ہوتا تھا
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کی اپ گریڈیشن اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان
کارگو اور نقل و حمل کی ضروریات
اجلاس میں مستقبل کی کارگو اور نقل و حمل کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان ریلویز کی ترقی بشمول ML اور ML-3 کی اپ گریڈیشن پر بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: طورخم بارڈر پر تجارتی راہداری بحالی کرنے کی تیاریاں، گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے سکینر ٹرمینل پہنچا دیے گئے
بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل
وزیراعظم نے 2028 تک ریکو ڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے اور ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ترقی کے لیے فائنانسنگ کے حوالے سے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیر ستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 خوارج ہلاک
کمیٹی کے مقاصد
کمیٹی پاکستان ریلویز کی ترقی اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع کے لیے درکار فائنانسنگ کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 302 این جی اوز کی ریلیف سرگرمیاں جاری
ریلوے کی اہمیت
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز ملکی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان ریلویز نقل و حمل کا ایک سستا، تیز اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 10 سالہ بھتیجی سے زیادتی اور قتل کا الزام، ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
بلکہ بلوچستان کی ترقی
شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریکو ڈک کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے سے بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز شعبے کی ترقی ہو گی اور علاقے کے عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں شریک ممبران
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر بحری امور جنید انور چوہدری، وزیر ریلویز حنیف عباسی، وزیر مملکت برائے ریلویز بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔








