وزیراعظم کی 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی بڑی ہدایت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے 2028 تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وسطی افریقی جمہوریہ کے اسکول میں بھگدڑ مچنے سے 29 طلبہ ہلاک
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کی اپ گریڈیشن اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے حملے سے ایک رات پہلے کیا کام کیا کہ اگلے دن ایس 400 تباہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا؟ بھارت کے سابق پائلٹ کا حیران کن انکشاف
کارگو اور نقل و حمل کی ضروریات
اجلاس میں مستقبل کی کارگو اور نقل و حمل کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان ریلویز کی ترقی بشمول ML اور ML-3 کی اپ گریڈیشن پر بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گرمی کی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت 47 ڈگری تک محسوس ہونے لگا
بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل
وزیراعظم نے 2028 تک ریکو ڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنے اور ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ترقی کے لیے فائنانسنگ کے حوالے سے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو ہراساں اور اغوا کی ناکام کوشش کرنے والے ملزم کو گرفتار
کمیٹی کے مقاصد
کمیٹی پاکستان ریلویز کی ترقی اور اس کی ریکو ڈک تک توسیع کے لیے درکار فائنانسنگ کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا خطرناک ترین قیدی 46 سال بعد ’شیشے کے پنجرے‘ سے باہر آ گیا ، 17 ہزار دن قید تنہائی میں گزارنے کا ریکارڈ بنا دیا۔
ریلوے کی اہمیت
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز ملکی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان ریلویز نقل و حمل کا ایک سستا، تیز اور ماحول دوست ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسسٹنٹ کمشنر لاہور سٹی بابر علی کو تبدیل کرکے اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر لاہور تعینات کردیا گیا
بلکہ بلوچستان کی ترقی
شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریکو ڈک کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے سے بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز شعبے کی ترقی ہو گی اور علاقے کے عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں شریک ممبران
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر بحری امور جنید انور چوہدری، وزیر ریلویز حنیف عباسی، وزیر مملکت برائے ریلویز بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔








