سابق روسی صدر کا ایران کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق بیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید غصہ آگیا
ڈونلڈ ٹرمپ کا روسی ایٹمی بیان پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف کے مبینہ بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ٹرمپ نے پوچھا، "کیا واقعی میدویدیف نے ایران کو ایٹمی ہتھیار دینے کی بات کی؟"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گلابی چاند دیکھنے کا شاندار موقع، کب اور کیسے دیکھا جا سکے گا؟ جانیے
ٹرمپ کا سوال
ٹرمپ نے کہا، "کیا میں نے روس کے سابق صدر میدویدیف کو 'N word' کا استعمال کرتے سنا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ وہ اور دیگر ممالک ایران کو ایٹمی ہتھیار فراہم کریں گے؟ اگر واقعی انہوں نے ایسا کہا ہے تو براہِ کرم مجھے فوراً آگاہ کریں۔"
یہ بھی پڑھیں: کھلی کچہریوں میں 1243 شکایات موصول، نو گو ایریاز ختم کر دیں گے، کوئی آفیسر بجلی چوری میں ملوث پایا گیا تو کیا سلوک کیا جائے گا؟ سی ای اولیسکو نے بتا دیا
خطرے کی گھنٹی
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ "'N word' جیسے لفظ کو اتنی آسانی سے نہیں لینا چاہیے۔ شاید اسی لیے پیوٹن اُسے 'دی باس' کہتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں: مغربی یورپ کی تاریخ میں جون 2025 گرم ترین مہینہ ریکارڈ
امریکی فوجی صلاحیتوں کا تذکرہ
انہوں نے امریکی فوجی صلاحیتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے آخر میں ہمارے 'ہتھیاروں' کی کارکردگی شاندار تھی۔ ہمارے سب سے طاقتور اور جدید ترین ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں جو موجودہ دور سے 20 سال آگے ہیں۔ اس دوران ہم نے 30 ٹام ہاک میزائل داغے اور سب نے اپنے ہدف کو درست نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: تمہاری اوقات بھی نہیں، مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا
امریکی پائلٹس اور نیوی کا شکریہ
آخر میں، ٹرمپ نے امریکی پائلٹس اور نیوی کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہمارے عظیم فائٹر پائلٹس کے ساتھ ساتھ، کیپٹن اور کریو کا بھی شکریہ!"
عالمی تناظر
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور ایران کے جوہری امکانات کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔







