امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں
امریکی حکومت کی نئی ہدایات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے اسٹوڈنٹ اور تبادلہ پروگرام کیٹیگریز کی درخواست دینے والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو "پبلک" کریں تاکہ امریکی حکام ان کی شناخت اور سکیورٹی ویٹنگ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو نے 2026 ورلڈ کپ کو اپنے کیریئر کا آخری ایونٹ قرار دے دیا
ہدایت ناموں کا پس منظر
یہ ہدایات امریکی قونصل خانوں کراچی اور لاہور کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری کی گئیں، جو اس ہفتے دہلی میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی توسیع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حکومتی بل کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے اور تحریک انصاف اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ضروریات
بیان کے مطابق، "تمام افراد جو F، M یا J کیٹیگری کے غیر امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں، وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پرائیویسی سیٹنگز کو 'پبلک' پر سیٹ کریں تاکہ ان کی شناخت اور امریکہ میں داخلے کے اہل ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پاکستان میں غیررجسٹرڈ وی پی این بلاک کرنا شروع کردیئے
سخت قوانین اور نتائج
واضح رہے کہ 2019 سے امریکہ تمام ویزہ درخواست دہندگان سے سوشل میڈیا کی معلومات (اکاؤنٹ ہینڈلز) طلب کرتا رہا ہے، لیکن اب یہ شرط سختی سے لاگو کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق، سوشل میڈیا معلومات نہ دینا یا جھوٹی معلومات فراہم کرنا ویزہ انکار اور مستقبل میں نااہلی کا سبب بن سکتا ہے۔
ویزوں کی نوعیت
F اور M ویزے امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ J ویزا تبادلہ پروگرامز میں شامل افراد کے لیے مخصوص ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اسٹوڈنٹ ویزہ سسٹم کی بحالی اور سکیورٹی چیکنگ کو سخت بنانے کی پالیسی کے تحت سامنے آیا ہے۔








