نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا تو ۔۔۔ ؟
تحریر
رائے حسنین
یہ بھی پڑھیں: کسی سے نہیں ڈرتا، اگر کہیں جاؤں گا تو خود بتادوں گا، علی امین گنڈاپور
سیاسی منظر نامہ
حالات کی کروٹ تو اس وقت سیاسی منظر نامی پر سب کو نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ دوسرے مرحلے میں کوئی legitimate سیٹ اپ بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ جبکہ ’’صاحب‘‘ کے دورۂ امریکہ کے بعد پروگرام پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ لگتا ہے چوھدری نثار سے شہباز کی ملاقات کو مذاکرات کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گتّے کے کارخانے سے نکل کر فراٹے بھرتی گاڑیاں امرتسرمیں داخل ہو گئیں، لاہور کی ثقافتی زندگی کی جڑیں امرتسر کی تہذیبی مٹی سے پھوٹی ہیں
پی ٹی آئی کے مطالبات
لیکن چند ہی گھنٹوں بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی کے وائس چیئرین سمیت ایک مطالبات سے بھرپور خط منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں بھی اصل نکتہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی لوگوں سے مذاکرات پر زور تھا۔ پھر آج پی ٹی آئی کے اسد قیصر کی جانب سے قومی حکومت کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میں شمولیت کی حامی بھی بھر لی گئی۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے معتدل مزاج سیاستدان تصور کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گڈ گورننس کا راستہ میرٹ پر بھرتی سے ہو کر گزرتا ہے، اپنے وعدے پر قائم ہوں بلوچستان کے لوگوں کی کوئی نوکری بیچنے نہیں دوں گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
مستقبل کے امکانات
اب کیا ہوگا؟ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قومی حکومت کے مطالبے کو مان جائیں گے؟ کیا قومی حکومت کے قیام سے ملکی سیاسی معاشی نظام اور عام آدمی کو فرق پڑے گا؟ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے، اگر نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو تو۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے عوام تعلیم اور روز گارمانگتے ہیں تو یہ انکا بنیادی حق ہے: حافظ نعیم الرحمان کا جعفر آباد میں ’’بنو قابل انٹری ٹیسٹ‘‘ کے شرکاء سے خطاب
قومی حکومت کے فوائد
قومی حکومت بننا ملک کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ سیاسی استحکام آئے گا، اسمبلیوں کے اندر ’’عضوِ معطل‘‘ پی ٹی آئی جس کا کام فی الحال chaos پیدا کرنے ہی ہے، وہ بھی ریاست کے لیے کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے راؤنڈ میں شکست کے بعد بھارتی فضائیہ مقابلے سے ہی بھاگ گئی، دوبارہ پاکستان کے بارڈر پر طیارے نہیں لائی” پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف کا انکشاف
پی ٹی آئی کے فائدے
جہاں اسکا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے منشور کو کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھا پائے گی، وہاں حکومتی اتحاد اس سے بہت فائدہ اٹھا سکے گا۔ مہنگائی اور دیگر ریاستی امور پر سے تنقید کا سامنا کم کرنا پڑے گا، کیونکہ اب تو چور حلال ہو گئے ہیں انکے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ جمعے یا پیر تک ہوگا، محسن نقوی
بین الاقوامی ڈیلز
ریاست کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اہم بین الاقوامی ڈیلز بغیر کسی تنقید کے شروع و مکمل ہو سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کرادیا
عمران خان کا کردار
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان قومی حکومت کو تسلیم کریں گے؟ اسکا جواب مشکل ہے، لیکن یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے مذاکرات کے لیے ایک بڑا گروپ تیار ہے۔ اگر عمران نہ مانے تو پھر پی ٹی آئی ایک الگ دھڑا کھل کر سامنے آ جائے گا اور خان صاحب ہٹ دھرمی کی سزا بھگتتے رہیں گے۔
خلاصہ
سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کو مائنس کر کے اور پی ٹی کے اہم دھڑے کو الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ legitimate اور قابل قبول حکومت بنا پائے گی؟ کیا عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے ایسا نظام قابل قبول ہو گا؟
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








