نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا تو ۔۔۔ ؟

تحریر

رائے حسنین

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کی خواہش تھی لاہور میں بسنت فیسٹول واپس آئے، مریم اورنگزیب

سیاسی منظر نامہ

حالات کی کروٹ تو اس وقت سیاسی منظر نامی پر سب کو نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ دوسرے مرحلے میں کوئی legitimate سیٹ اپ بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ جبکہ ’’صاحب‘‘ کے دورۂ امریکہ کے بعد پروگرام پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ لگتا ہے چوھدری نثار سے شہباز کی ملاقات کو مذاکرات کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو رواں ماہ 150 سے 200 ارب کے ریونیو شاٹ فال کا سامنا

پی ٹی آئی کے مطالبات

لیکن چند ہی گھنٹوں بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی کے وائس چیئرین سمیت ایک مطالبات سے بھرپور خط منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں بھی اصل نکتہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی لوگوں سے مذاکرات پر زور تھا۔ پھر آج پی ٹی آئی کے اسد قیصر کی جانب سے قومی حکومت کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میں شمولیت کی حامی بھی بھر لی گئی۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے معتدل مزاج سیاستدان تصور کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بیوی پرانی ہو جائے تو نئی شادی کا جواز بن جاتا ہے؟لاہور ہائیکورٹ کا بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر شہری کی سزا و جرمانہ برقراررکھنے کا حکم

مستقبل کے امکانات

اب کیا ہوگا؟ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قومی حکومت کے مطالبے کو مان جائیں گے؟ کیا قومی حکومت کے قیام سے ملکی سیاسی معاشی نظام اور عام آدمی کو فرق پڑے گا؟ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے، اگر نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو تو۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

قومی حکومت کے فوائد

قومی حکومت بننا ملک کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ سیاسی استحکام آئے گا، اسمبلیوں کے اندر ’’عضوِ معطل‘‘ پی ٹی آئی جس کا کام فی الحال chaos پیدا کرنے ہی ہے، وہ بھی ریاست کے لیے کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جنرل سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ایرانی چیف آف جنرل سٹاف جنرل محمد بغیری سے ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر زور

پی ٹی آئی کے فائدے

جہاں اسکا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے منشور کو کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھا پائے گی، وہاں حکومتی اتحاد اس سے بہت فائدہ اٹھا سکے گا۔ مہنگائی اور دیگر ریاستی امور پر سے تنقید کا سامنا کم کرنا پڑے گا، کیونکہ اب تو چور حلال ہو گئے ہیں انکے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شوہر نے کھانے میں نمک زیادہ ہونے پر بیوی کو قتل کردیا

بین الاقوامی ڈیلز

ریاست کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اہم بین الاقوامی ڈیلز بغیر کسی تنقید کے شروع و مکمل ہو سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کا وفاق سے ملکی سطح پر گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ

عمران خان کا کردار

مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان قومی حکومت کو تسلیم کریں گے؟ اسکا جواب مشکل ہے، لیکن یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے مذاکرات کے لیے ایک بڑا گروپ تیار ہے۔ اگر عمران نہ مانے تو پھر پی ٹی آئی ایک الگ دھڑا کھل کر سامنے آ جائے گا اور خان صاحب ہٹ دھرمی کی سزا بھگتتے رہیں گے۔

خلاصہ

سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کو مائنس کر کے اور پی ٹی کے اہم دھڑے کو الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ legitimate اور قابل قبول حکومت بنا پائے گی؟ کیا عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے ایسا نظام قابل قبول ہو گا؟

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...