صدارتی ایوارڈ یافتہ سائنسدان جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
ڈاکٹر غلام محمد علی کا جسمانی ریمانڈ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف سائنسدان اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی کو جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان رجیم پر عالمی دباؤ میں اضافہ، اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا
عدالت میں پیشی اور ریمانڈ کی درخواست
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ڈاکٹر غلام محمد علی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی اے نے اُن کے سات روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے صرف تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ اس کیس میں پی اے آر سی کے ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اخلاق ملک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے پر بھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج
الزامات کی نوعیت
پراسیکیوٹر کے مطابق چیئرمین پی اے آر سی پر غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔ ان پر 164 منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں 332 افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کا الزام ہے، جبکہ مبینہ طور پر بھرتیوں کے عوض رشوت لینے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
تحقیقات کا دائرہ
ایف آئی اے کے مطابق اس کیس میں ڈاکٹر غلام محمد علی سمیت 19 افسران کے خلاف مقدمہ درج ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تمام تقرریوں کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود تاحال بند، 18 روز میں ایئر لائنز کو 400 کروڑ انڈین روپے کا نقصان
چیئرمین پی اے آر سی کا مؤقف
عدالتی کارروائی کے دوران چیئرمین پی اے آر سی نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام آسامیوں کا باقاعدہ اشتہار دیا گیا تھا اور سلیکشن کے لیے باقاعدہ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ اس پر جج احمد شہزاد گوندل نے ریمارکس دیے کہ ابھی تفتیش ہونا باقی ہے، تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
عدالتی کارروائی کی پس منظر
یاد رہے کہ یہ کیس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر ایف آئی اے کو بھیجا گیا تھا۔








