عجوبہ پل ختم ہو گیا، انگریزوں کو غالباً اندازہ ہو گیا کہ ہندوستان میں انکے قیام کے دن گنے جا چکے ہیں، یوں سبی سے کوئٹہ پہنچنے والی یہ لائن قصہ پارینہ بن گئی۔
مصنف کا تعارف
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 198
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایران، اسرائیل تنازع پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے دکھائی دے رہے ہیں: برطانوی میڈیا کا دعویٰ
کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی تاریخ
کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پاکستان کے خوبصورت اور قدیم ترین اسٹیشنوں میں سے ایک ہے، جس کی تعمیر 1880ء میں شروع ہوئی اور یہ 1887ء میں مکمل ہوا۔ اس علاقے میں ریلوے لائن بچھانا انگریز سرکار کی سلامتی کے لیے بھی بہت ضروری سمجھا گیا تھا، کیوں کہ افغانستان اور روس کی طرف سے کسی بھی وقت سرحد عبور کرکے ہندوستان پر حملے کا خطرہ موجود رہتا تھا۔ اسی خطرے سے نبٹنے کے لیے جلد از جلد ریلوے لائن کو اس طرف لانا ضروری سمجھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی صنعتی کارکنوں کے لیے 720 فلیٹس کی قرعہ اندازی
ریلوے اسٹیشن کی سہولیات
اس ریلوے اسٹیشن پر بڑے جنکشن والی تمام سہولتوں کے علاوہ ریلوے کا ایک عجائب گھر بھی بنایا گیا ہے۔ جس میں نہ صرف وہ تاریخی اوزار رکھے گئے جو وادیِ بولان میں ریلوے لائن کی تعمیر کے دوران استعمال ہوئے تھے بلکہ اس زمانے کے چیدہ چیدہ نوادرات، یادگار نقشے اور ایسی تصاویر کی نمائش کی گئی ہے جن میں اس لائن پر کام ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس موبائل سڑک تیار کرنے والے رولر سے ٹکرا گئی، ملزم جاں بحق
اہم تاریخی یادگاریں
یہاں میری جین کی مبینہ تصویر بھی رکھی گئی ہے جس کا ذکر سرنگ نمبر 16 کی تعمیر کی کہانی میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ برطانوی شاہی خاندان اور افغانستان کے شاہ کے اس علاقے میں دورے کی تصویریں اور تاریخی مواد بھی موجود ہے۔ ایک خوبصورت ٹَرالی بھی یہاں رکھی گئی ہے جس پر بیٹھ کر پرنس آف ویلز نے بولان ریلوے کے خاص مقامات کا دورہ کیا تھا، جس میں دنیا کا ایک عجوبہ یعنی چھپر لفٹ کا پل بھی شامل تھا جو انجنیئرنگ کا ایک شاہکار منصوبہ سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست گجرات میں عام آدمی پارٹی کے رہنما کو شہری نے جوتا دے مارا
ریلوے لائن کی تفصیلات
یہ ایک مختلف لائن پر تھا جو سبی- مچھ- کوئٹہ کی نئی لائن سے پہلے ہی بن گئی تھی۔ یہ لائن سبی سے شمال کی طرف ہو کر دریائے ناری عبور کرکے ہرنائی جاتی تھی اور پھر وہاں سے چھپر لفٹ کا یہ تاریخی پل عبور کر کے کوئٹہ پہنچ جاتی تھی۔ یہ پل دریا کی سطح سے کوئی سوا دو سو فٹ بلند تھا یعنی کوئی 22 منزلہ عمارت کی بلندی جتنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میونسپل لائبریری جڑانوالہ میں ”دیوان سنگھ مفتون“ کے مقدمات پر مبنی آپ بیتی اور ہٹلر کی ”میری کہانی“ نامی خودنوشت جیسی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا
پُل کا تاریخی مقام
اس کے دونوں طرف سرنگیں تھیں، ریل گاڑی ایک سرنگ سے نکلتی تھی اور پل بھر میں پل عبور کر کے دوسری سرنگ میں داخل ہو جاتی تھی۔ نیچے سے تو یہ ریل گاڑی محض ایک کھلونا ہی نظر آتی تھی لیکن یہ ایک جیتی جاگتی سٹیم انجن والی گاڑی ہوتی تھی۔ یہ اتنا شاندار نظارہ ہوتا تھا کہ اس کو دیکھنے کے لیے اسٹیم انجن کے سامنے والے حصے میں خصوصی نشستیں نصب کی گئی تھیں جہاں بیٹھ کر گورے افسر، امراء یا معزز مہمان یہ نظارہ کیاکرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ارکان کانگریس کی بانی سے ملاقات سے متعلق میرے سامنے کوئی بات نہیں ہوئی:عاطف خان
تعمیر نو کی عدم دلچسپی
یہ ریلوے لائن جولائی 1942ء میں یہاں ہونے والی شدید طوفانی بارشوں کی نذر ہو گئی اور ساتھ ہی وہ عجوبہ پل بھی ختم ہو گیا۔ انگریزوں کو غالباً اندازہ ہو گیا تھا کہ اب ہندوستان میں ان کے قیام کے دن گنے جا چکے ہیں، اس لیے انھوں نے اس لائن کی تعمیر نو میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں لی۔ اور یوں سبی سے ایک دوسرے راستے کے ذریعے کوئٹہ پہنچنے والی یہ لائن قصہ پارینہ بن گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی S-400 سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے اڑان بھرنے والے JF-17 تھنڈر کی خصوصی ویڈیو منظرعام پر
کوئٹہ کا خوبصورت منظر
ہم جو روہڑی سے اتنا طویل سفر کرکے کوئٹہ پہنچے ہیں تو کچھ وقت یہاں رک کر کوئٹہ کے بارے میں بھی کچھ جانتے ہیں -
کوئٹہ، خوبصورت موسموں کا شہر
برکھا برسے چھت پر،
میں تیرے سپنے دیکھوں
برف گرے پربت پر،
میں تیرے سپنے دیکھوں
کتاب کی تفصیلات
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








