مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے بھارتی وزیر خارجہ کو احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی

مشیر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا کا بیان
اسلام آباد (آئی این پی) مشیر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ہم بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو دعوت دیں گے کہ وہ ہمارے احتجاج میں شرکت کریں اور ہمارے لوگوں سے خطاب کریں، تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پاکستان کی جمہوریت کتنی مضبوط ہے، جہاں ہر کسی کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی کے 3 مراحل۔۔۔آپ کی کامیابی کی حکمت عملی
احتجاج کے مقاصد
خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک انٹرویو میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی کے پی ڈی چوک پہنچیں گے اور محسن نقوی کو چائے پلائیں گے، ڈی چوک پر ہم احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور بانی پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج ختم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ غلط بیان دے رہے ہیں، ہم اسلحہ کیوں لائیں گے؟ پر امن احتجاج ہمارے مفاد میں ہے، اگر کچھ ہوا تو یہ لوگ خود ذمہ دار ہوں گے، ہم ملک کی بہتری کے لیے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کا کرم میں تمام بنکرز اور بھاری اسلحہ ختم کرنے کا فیصلہ
فوج کے ساتھ تعامل
ان کا کہنا تھا کہ ہم فوج سے کیوں مقابلہ کریں گے، ہمارا ان سے جھگڑا نہیں، ان کا احترام کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے آئین اور قوم کا احترام کریں گے۔ ہم ڈی چوک میں احتجاج کریں گے جو ہمارا حق ہے، فوج کا اہلکار موجود ہوگا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کریں گے۔ فوج تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے نہیں آ رہی، بلکہ ایس سی او کی سکیورٹی کے لیے آ رہی ہے، اور ڈی چوک سے کوئی وفود نہیں گزرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک میچ میں 6 کیچز: رضوان نے آسٹریلیا کیخلاف میچ میں ورلڈ ریکارڈ برابر کردیا
جمہوری اقدار کی مضبوطی
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ یہ جتنے ممالک آ رہے ہیں، ان کے وفود ہمارے احتجاج دیکھ کر خوش ہوں گے اور پاکستان کی جمہوری اقدار کی مضبوطی کی تعریف کریں گے۔ یہاں پر احتجاج کرنے کا حق آئین کے مطابق بڑا سیاسی پارٹی کو حاصل ہے۔
بھارتی وزیراعظم کا حوالہ
ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم آ رہے ہیں، وہ بہت بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو انہیں یہ دکھانا چاہئے کہ آپ نے احتجاج کو منسوخ کردیا ہے۔ 10 ہزار کنٹینرز کے پہاڑ اسلام آباد میں کھڑے کیے ہوئے ہیں، اگر وہ دکھانا چاہ رہے ہیں تو یہ آپ کی جمہوریت کی شکل ہے۔ ہم جے شنکر کو دعوت دیں گے کہ وہ ہمارے احتجاج میں شرکت کریں اور ہمارے لوگوں سے خطاب کریں، تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ پاکستان کی جمہوریت کتنی مضبوط ہے۔