انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں مگر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، علی امین گنڈا پور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں مگر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، عوامی نمائندوں کو نا اہل کر کے ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور خوشحال پنجاب کی تعمیر دیہی خواتین کے کردار کے بغیر ممکن نہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
الیکشن میں مینڈیٹ چوری
علی امین گنڈا پور نے الیکشن کے دوران ملک بھر میں مینڈیٹ چوری ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ فارم 47 کی مانگے تانگے کی حکومت ہم پر مسلط کی گئی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ سابق حکومتوں کی کرپشن کو ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جبکہ کوہستان اسکینڈل صوبے کا نہیں بلکہ وفاق کا معاملہ ہے، لیکن الزام ہم پر ڈالا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور قطر نے شام کے ذمہ قرض ورلڈ بینک کو ادا کردیا
مالی کامیابیاں
ان کا کہنا تھا کہ 17 ماہ میں صوبے نے 250 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل کر کے تاریخ رقم کی، خیبر پختونخوا کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ ہمیں قرضوں میں ڈوبا ہوا اور تنخواہوں کے لالے پڑے صوبے کا چارج ملا لیکن ہم نے صوبے کو مالی تباہی سے نکال کر کامیابی کی طرف گامزن کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے حماس کے سینئر رہنما خالد الحیہ کون ہیں؟
ایڈمنڈمنٹ فنڈ و مستقبل کے ہدف
انہوں نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 190 ارب کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور ہدف 300 ارب رکھا۔ خیبر پختونخوا شفافیت، خدمت اور ترقی میں ملک بھر میں ایک مثال بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: عافیہ صدیقی وطن واپسی کیس لارجر بنچ میں سماعت کیلئے مقرر
دہشت گردی کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہماری بڑی ترجیح ہے۔ جرگوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور عوام کی رائے فیصلہ کن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس و فوج کے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
مقابلہ اور حکمت عملی
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عوامی رائے اور جرگوں کی مشاورت سے مضبوط حکمت عملی تیار کریں گے جبکہ رجیم چینج کے بعد سے پی ٹی آئی حالت جنگ میں ہے۔ ریاست مخالف قوتیں متحرک ہیں لیکن ہم ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔








