چیف منسٹر پنجاب نے پوچھا کہ بار ایسوسی ایشنز میں مسلم لیگ کیوں ہار رہی ہے؟ خواجہ محمد شریف نے کہا، ”اس سوال کا جواب سچے مسلم لیگی ہی دے سکتے ہیں“۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی اجلاس کے دوران لیگی حکومتی ارکان اپنے ہی وزرا کی عدم موجودگی پر برسے
قسط: 160
یہ بھی پڑھیں: ہفتے کے آخر میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ سونا 3 لاکھ 59 ہزار 800 روپے کا ہوگیا
کہانی کا پس منظر
چند دنوں بعد، پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل، خواجہ محمد شریف نے میاں شہباز شریف، جو اُس وقت چیف منسٹر پنجاب تھے، سے سوال کیا کہ:
"خواجہ صاحب! آپ تو کہتے ہیں کہ بار ایسوسی ایشنوں میں مسلم لیگی گروپ سب سے بڑا ہے، تو مسلم لیگ بار الیکشن میں یکے بعد دیگرے کیوں ہار رہی ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایم پی اے امتیاز محمود شیخ کی رکنیت معطلی کے خلاف درخواست خارج
ملاقات کا آغاز
خواجہ محمد شریف نے چیف منسٹر پنجاب کو جواب دیا کہ اس سوال کا جواب صرف بار کے حقیقی مسلم لیگی دے سکتے ہیں۔
چیف منسٹر نے مزید پوچھا کہ حقیقی مسلم لیگی کون ہیں؟
چنانچہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، خواجہ محمد شریف اور دوسرے مسلم لیگی وکیلوں کو ماڈل ٹاؤن چیف منسٹر ہاؤس لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2026 کے لیے عازمین کی رجسٹریشن شروع
ملاقات کا اہم پیغام
وہاں وزیر قانون راجہ محمد بشارت نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھایا۔ چند لمحوں بعد، چیف منسٹر شہباز شریف ہمارے درمیان موجود تھے۔ اس ملاقات میں ہم نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ:
"لگ بھگ 150 سالوں سے وکیل اپنی لیڈر شپ ہر سال منتخب کرتے ہیں۔ آپ مسلم لیگی وکیلوں کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ اپنی لیڈر شپ خود منتخب کریں۔"
ہم نے تجویز دی کہ محمد سعید انصاری کی قیادت میں ایک ماہ میں مسلم لیگ لائیرز فورم کا ممبر بنائیں اور ڈیڑھ ماہ کے اندر عہدیداران کا انتخاب کریں۔
یہ بھی پڑھیں: این آر او دینے کےلیے پی ٹی آئی سے بات چیت نہیں ہو سکتی، طلال چوہدری
اجلاس کا نتیجہ
میاں محمد شہباز شریف نے تجویز سے اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر صدر پنجاب مسلم لیگ چودھری شجاعت حسین سے نوٹیفیکیشن جاری کروائیں گے۔
مگر یہ نوٹیفیکیشن کبھی جاری نہ ہوا کیونکہ میاں شہباز شریف نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے مشورہ کیا اور انہیں دخل اندازی سے منع کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو امریکہ میں مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی
میاں نواز شریف کی سیاست
یہ بات واضح ہوگئی کہ میاں محمد نواز شریف سیاست میں کسی اصول یا اخلاقی اقدار کے پابند نہیں ہیں۔
میرے جیسے افراد جو اپنے ملک و قوم سے وفاداری رکھتے ہیں، کسی ذات کی غلامی قبول نہیں کرسکتے۔
اختتامیہ
میرے ایمان کے مطابق، اگر پارٹی لیڈر شپ جمہوری خطوط پر کام کرے تو میں اُس کا ساتھ دوں گا۔ مگر خودغرضانہ مصلحتوں کے تحت کسی شخص کی غلامی برداشت نہیں کرسکتا۔
میں اُس نواز شریف کا قائل تھا جو قوم کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کرتا تھا، لیکن صورتحال مختلف ہے۔
ساحر لدھیانوی کی یہ شاعری میرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے:
"نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے، ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے۔"
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








