پاکستان میں کرپٹو ایکسچینجز کے لیے لائسنسنگ کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا
پاکستان میں کرپٹو ایکسچینجز کے لیے لائسنسنگ کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں کرپٹو ایکسچینجز کے لیے لائسنسنگ کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جو ملکی ڈیجیٹل فنانس سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے عالمی کرپٹو سروس فراہم کنندگان کو لائسنس کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی دعوت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنجے کپور کی موت سے چند لمحے قبل لی گئی تصویر سامنے آگئی
پاکستان کی کرپٹو مارکیٹ کا حجم
ماہرین کے مطابق پاکستان کی کرپٹو مارکیٹ میں اس وقت تقریباً 40 ملین صارفین اور 300 بلین ڈالر کا سالانہ تجارتی حجم موجود ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی غیر منظم مارکیٹس میں شمار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا پولیس کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر کرنے کا فیصلہ
اتھارٹی کے قیام کا مقصد
اتھارٹی کے قیام کا مقصد اس مارکیٹ کو عالمی معیار کے مطابق ریگولیٹ کرنا اور مالیاتی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 26-2025 آئندہ مالی سال کی قرض وصولیوں کے لیے پلان تیار
درخواست گزار کمپنیوں کے لیے شرائط
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو آپریشنز کے لیے درخواست دینے والی کمپنیوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ عالمی ریگولیٹرز سے لائسنس حاصل کریں، "Know Your Customers" کے سخت معیارات پر پورا اتریں اور کمپنی کی تفصیلی معلومات فراہم کریں۔
متوقع اثرات
اتھارٹی کی حکمت عملی میں غیرقانونی مالیاتی سرگرمیوں کی روک تھام اور فِن ٹیک سیکٹر کی ترقی کو فروغ دینا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری میں اضافہ اور کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔








