سیشن کورٹ لاہور نے ملزم یوٹیوبر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی کی ضمانت خارج کردی
لاہور: یوٹیوبر سعد الرحمان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیشن کورٹ لاہور نے ملزم یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: بی این پی مینگل کے سینیٹر کا آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان
عدالت کی کارروائی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ چوہدری نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق کیا: خواجہ آصف
وکیل کا مؤقف
دوران سماعت، ڈکی بھائی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ اس مقدمے میں کوئی ایک بھی گواہ موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کے مؤکل کو کسی قسم کا نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی ایپ ریکور کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟ ویڈیو تجزیہ
انکوائری کی تفصیلات
وکیل نے مزید بتایا کہ انکوائری کا آغاز 30 جون کو ہوا، جبکہ ڈکی بھائی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا اور مقدمہ 17 اگست کو درج کیا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے پییکا 37 لگائی، جس کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ غیر قانونی ایکٹیویٹی ہے تو پہلے اس کو بلاک کیا جاتا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: دورانِ ڈیوٹی ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکار معطل
پی ٹی اے کے کردار پر سوالات
وکیل نے کہا کہ اگر یہ ایپس غیر قانونی تھیں تو سب سے پہلے پی ٹی اے یا متعلقہ ادارے کو انہیں بلاک کرنا چاہیے تھا۔ 2020 کے رول بھی ان کو کہتے ہیں کہ اگر اس طرح غیر قانونی ایپس چل رہی ہیں تو انہیں بند کروائیں۔ جب تک مقدمہ درج ہوا، اس وقت تک پی ٹی اے نے ان ایپس کو نہ تو بین کیا تھا اور نہ ہی غیر قانونی قرار دیا تھا۔
فیصلے کا انتظار
بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج ساجدہ چوہدری نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ نیشنل سائبر انوسٹیگیشن ایجنسی نے جوا ایپ کی پروموشن کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔








