رشتوں کا خون
آنسوؤں کی بارش
بارش برس رہی تھی۔ کمرے کی کھڑکی کے شیشے پر بوندیں ٹک ٹک کر کے گر رہی تھیں، جیسے وقت کی دستک ہو… مگر رشید احمد کے لیے وقت کب کا رُک چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کی شرح میں اضافہ، 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
رشید احمد کی زندگی
70 سالہ رشید جس نے زندگی بھر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایک سرکاری سکول میں اردو کے استاد رہے۔ بچوں کو غالب، میر، فیض پڑھایا، رشتوں کی مٹھاس، خلوص کی قدر، اور حق حلال کی کمائی کا سبق دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ رشتے خون سے نہیں، قربانی، احساس اور وقت دینے سے جیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسان کارڈ سے 100 ارب روپے کے قرضے جاری، زراعت کی سمت یکسر تبدیل، گندم کی بہترین پیداوار متوقع
عائلتی یادیں
ان کا گھر کبھی ایک جنت تھا۔ صحن میں آم کا پیڑ، شام کی چائے، بیوی کی ہنستی ہوئی آواز، بچوں کی کھیل کود — سب کچھ مکمل تھا۔ بیوی، شمیم، نرم مزاج اور سادہ عورت تھی، جس نے رشید کے ساتھ غربت میں بھی کبھی شکوہ نہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری روک دی
تعلیم اور قربانیاں
بیٹے، فہد اور جبران، اور ایک بیٹی نائلہ۔ تینوں کو انہوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ خود نیا کپڑا نہ خریدا، مگر بچوں کے لیے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا۔ ہر خواہش دبا لی، بس ایک خواب تھا کہ بچے کامیاب ہوں، خوش ہوں، اور کل جب بڑھاپا آئے تو ان کی محبت چھاؤں بنے۔
یہ بھی پڑھیں: میجر شبیر شریف شہید( نشان حیدر )کا 53واں یوم شہادت ، افواج پاکستان کا زبردست الفاظ میں خراج عقیدت
خوابوں کی حقیقت
لیکن وقت نے دکھایا کہ خواب کبھی کبھار بدترین حقیقت بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا دفاعی بجٹ میں اضافے سے دیگر منصوبے متاثر ہوں گے؟
تنہائی کی داستان
شمیم کے انتقال کے بعد رشید اندر سے ٹوٹ چکے تھے، مگر بچوں کے لیے زندہ رہنا ضروری تھا۔ جب ریٹائر ہوئے تو سوچا اب سکون سے وقت گزاریں گے۔ جائیداد بچوں میں برابر بانٹ دی، بغیر کسی لالچ کے۔ فہد نے بڑا بنگلہ لیا، جبران نے فلیٹ، اور نائلہ کی شادی دور کے ایک شہر میں ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: سرپسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا: آئی جی اسلام آباد
فاصلوں کا بڑھنا
پہلے پہل سب آتے جاتے رہے، پھر آہستہ آہستہ فاصلے بڑھنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کی ایرانی وفد سے ملاقات
بچوں کی ذمہ داریاں
ایک دن فہد آیا، اور بولا:
"ابو، آپ ہمارے ساتھ چلیں، مگر بس ایک دو ہفتے کے لیے، ہمارے ہاں مہمان آ رہے ہیں، آپ کو پھر جبران کے پاس جانا ہوگا۔"
جبران کے ہاں گئے، تو چند دن بعد وہ بھی شرمندہ سا کہنے لگا:
"ابو، آپ کو تو معلوم ہے، بچے بڑے ہو گئے ہیں، کمرے کم پڑتے ہیں۔ بہتر ہوگا آپ نائلہ کے پاس کچھ دن رہ لیں۔"
نائلہ، جس نے بچپن میں سب سے زیادہ باپ سے محبت کی تھی، اب اپنے سسرال میں مجبور تھی۔ شوہر تنگ دل انسان تھا، بوڑھے سسر کو ساتھ رکھنے کے حق میں نہ تھا۔ وہ بھی فون پر صرف اتنا بولی:
"ابو، دعا کیجیے حالات بدلیں… میں آپ کو لینے ضرور آؤں گی۔"
یہ بھی پڑھیں: معروف گلوکار عمیر جسوال کا طلاق اور دوسری شادی سے متعلق بیان وائرل
اجنبی گھر
اور یوں رشید اپنے ہی گھر کے ایک سنسان کمرے میں رہ گیا۔ جس گھر کی بنیاد اس نے رکھی تھی، وہی اب اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں چوری کی بڑی واردات، چور 80 تولے سونا اور ڈائمنڈ جیولری لے اڑے
یادیں اور سوالات
وقت گزرتا گیا۔ رشید خاموش ہوتا گیا۔ ایک دن آم کے پیڑ کے نیچے بیٹھے، اس نے بیوی کی تصویر کو دیکھا اور کہا:
"شمیم، ہم نے جو بیج بویا تھا، وہ سایہ کیوں نہ دے سکا؟ کیا ہم نے کچھ غلط کیا تھا؟"
یہ بھی پڑھیں: 7 مئی کا تاریخی معرکہ: مختلف ممالک کی پاک فضائیہ میں دلچسپی بڑھ گئی
اندھیری رات
اُس رات بارش بہت تیز تھی۔ بجلی گئی ہوئی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، مگر رشید کی آنکھوں میں جو اندھیرا اُتر چکا تھا، وہ کسی روشنی سے ختم نہ ہو سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کو ہوگا، سخت سیکیورٹی انتظامات، غیرمتعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی
نئی امید
صبح دروازے پر دستک ہوئی۔ رشید کو یقین نہ آیا۔ کب سے تو دروازہ کوئی نہیں کھٹکھٹاتا تھا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے نائلہ کھڑی تھی — بھیگی ہوئی، آنکھوں میں آنسو، ہاتھ میں دوائیوں کا تھیلا، اور دل میں پچھتاوا.
"ابو... دیر ہو گئی، لیکن شاید بہت دیر نہیں ہوئی۔ میں آپ کو لینے آئی ہوں۔"
رشید اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اس کے لب ہلے:
"رشتے خون کے ہوتے ہیں، مگر جب خون بےوفائی سے آلودہ ہو جائے، تو وہ رشتے زہر بن جاتے ہیں، نائلہ۔"
نائلہ نے باپ کے ہاتھ تھام لیے:
"ابو، خون میں زہر آ جائے تو علاج ممکن ہے۔ میں وہ علاج بننا چاہتی ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے امریکا میں ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حکم نامے پر دستخط کردیئے۔
محبت کی نشانی
رشید کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ برسوں بعد کسی نے اس کا ہاتھ یوں محبت سے تھاما تھا۔
شاید وہ مکمل تنہا نہیں تھا۔
شاید رشتوں کا خون ہوا تھا لیکن دل ابھی زندہ تھا۔
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








