امریکا کی نئی ویزا پالیسی، موٹاپا اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کا داخلہ بند
امریکا کی حکومت کا نیا فیصلہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کی حکومت نے ایک نئے فیصلے کے تحت موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا غیر ملکیوں کو امریکا کا ویزا جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے لندن منتقل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اصل وجہ سامنے آگئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا اعلامیہ
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر کے امریکی سفارت خانوں کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان بیماریوں کے شکار افراد کے لیے ویزا کی درخواستیں مسترد کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر! پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی جرات و جذبہ دیدنی، میزائل فائر کرنے کی ویڈیو سامنے آگئی
فیصلے کی پس منظر
اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کے دور کی امیگریشن پالیسیوں کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف ممالک کے پناہ گزینوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور امریکا میں داخلے کے لیے شرائط سخت کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کے لئے اپوزیشن کی نااہلی سمجھ سے بالاتر ہے، 26ویں کی طرح 27ویں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے، عثمان مجیب شامی
حکومتی موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صحت کے حوالے سے خطرات کو کم کرنے اور امریکا کے قومی مفاد کا تحفظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 9 ملزمان گرفتار، ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد
متاثرہ افراد
اس نئے فیصلے سے خاص طور پر وہ افراد متاثر ہوں گے جو موٹاپے یا ذیابیطس کی وجہ سے امریکا کے طبی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے اپوزیشن کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری
تنقید اور اعتراضات
اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگریشن کے حوالے سے مزید امتیازی سلوک کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس سے انسانیت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
آئندہ کے اثرات
یہ نیا قانون کب سے نافذ ہوگا اور اس کے مزید اثرات کیا ہوں گے، اس بارے میں امریکی حکام نے تاحال کوئی واضح تاریخ نہیں دی ہے۔








