امریکا کی نئی ویزا پالیسی، موٹاپا اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کا داخلہ بند
امریکا کی حکومت کا نیا فیصلہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کی حکومت نے ایک نئے فیصلے کے تحت موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا غیر ملکیوں کو امریکا کا ویزا جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اطلاعات ہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے موجودہ عہدیداران کو پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں نامزد کیا جا رہا ہے، بیرسٹر علی ظفر
امریکی محکمہ خارجہ کا اعلامیہ
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر کے امریکی سفارت خانوں کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان بیماریوں کے شکار افراد کے لیے ویزا کی درخواستیں مسترد کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
فیصلے کی پس منظر
اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کے دور کی امیگریشن پالیسیوں کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف ممالک کے پناہ گزینوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور امریکا میں داخلے کے لیے شرائط سخت کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: قبضہ کی گئی جائیداد کا کرایہ رشتہ دار وصول کرتا رہا، وفاقی محتسب نے بیوہ خاتون کو جائیداد کا حق دلوا دیا
حکومتی موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صحت کے حوالے سے خطرات کو کم کرنے اور امریکا کے قومی مفاد کا تحفظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات: ناراض پی ٹی آئی رہنماؤں اور علی امین گنڈاپور میں مذاکرات کا نتیجہ آ گیا
متاثرہ افراد
اس نئے فیصلے سے خاص طور پر وہ افراد متاثر ہوں گے جو موٹاپے یا ذیابیطس کی وجہ سے امریکا کے طبی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عیدالاضحی پر فول پروف سیکیورٹی انتطامات کا حکم
تنقید اور اعتراضات
اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگریشن کے حوالے سے مزید امتیازی سلوک کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس سے انسانیت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
آئندہ کے اثرات
یہ نیا قانون کب سے نافذ ہوگا اور اس کے مزید اثرات کیا ہوں گے، اس بارے میں امریکی حکام نے تاحال کوئی واضح تاریخ نہیں دی ہے۔








