27 ویں آئینی ترمیم، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے اہم اعلان کردیا
اسلام آباد کا منظر نامہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے اہم اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں 26 سے 30 اپریل کے دوران شدید گرمی کی لہر کی پیشگوئی، ہیٹ ویو الرٹ جاری
27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت
تفصیلات کے مطابق، سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کا اعلان کیا اور درخواست کی کہ تمام پارلیمانی جماعتیں ساتھ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سمیت دیگر کے خلاف 26 نومبر کے مقدمات، انسداد دہشتگردی عدالت نے حاضر ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کردیں
آئین کی بنیادوں پر اثرات
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرتی ہے، آئین میں ترمیم کسی عمارت کی بنیاد سے چھیڑ چھاڑ ہے۔ آئین کے 5 ستون ہیں، ایک بھی ستون کو ہلائیں گے تو بڑی تباہی ہو جائے گی۔ 1973ء میں آئین آیا تو کہا گیا کہ یہ کسی جماعت یا ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ آپ کسی عمارت کی بنیاد کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج کی لڑکیاں عیاشی اور آزادی کی وجہ سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتیں، اداکارہ غزالہ جاوید
سویلین سپریمیسی کا اصول
’’جنگ‘‘ کے مطابق سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا ایک پرنسپل ہے، سویلین سپریمیسی ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی کروڑوں لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہٹا کر آئین کے توازن کو تہس نہس کرنا شروع کیا گیا۔ کس طرح عدلیہ کو استعمال کیا گیا، عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا اپریل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریفائنریوں کو ریلیف فراہم کرنے پر غور
آئینی ترمیم پر خاموشی
اتفاق رائے اور کثرت رائے علیٰحدہ چیز ہیں، اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں کوئی آئینی ترمیم نہیں مانے گا۔ قوم کا اتفاق رائے اس ترمیم پر نہیں ہے۔ آئینی ترمیم وہ کریں جو جائز انداز سے منتخب ہوں، جن کا ذاتی مفاد نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کر دیے
جعلی پارلیمنٹ کی حقیقت
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن چرایا گیا، جو جیتے وہ پارلیمنٹ میں نہیں، یہ جعلی پارلیمنٹ ترمیم کرنے کے لیے با اختیار نہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں نے ترمیم کے حوالے سے پہلے فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: 21 سے 25 اکتوبر تک کیسز کی سماعت کیلئے ججز ڈیوٹی روسٹر جاری
عدلیہ کی آزادی کا تحفظ
سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ یہ ترمیم عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کنٹرول میں لے جائے گی۔ پاکستان میں جتنے کیسز زیرالتواء ہیں، ان میں سے صرف 2 فیصد سپریم کورٹ میں ہیں۔
مستقبل کی جانب ایک قدم
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم ان آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ ہم زیر التواء کیسز کو ختم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔








