راولپنڈی میں سود اور مبینہ بھتہ خوروں سے دل برداشتہ خاتون کی پراسرار موت کے بعد انصاف نہ ملنے پر شوہر نے بھی خودکشی کرلی
خاتون کی پراسرار موت اور شوہر کی خودکشی
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ گوجرخان کے علاقے میں سود اور مبینہ بھتہ خوروں کی وجہ سے دل برداشتہ خاتون کی پراسرار موت کے بعد انصاف نہ ملنے پر شوہر نے بھی خودکشی کر لی۔ اہل خانہ نے لاش کے ساتھ ایس پی کے دفتر پر احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کو پیٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے اضافی کاربن لیوی عائد کرنے کی یقین دہانی
ماضی کی تلخیوں کا سامنا
ایکسپریس نیوز کے مطابق، خاتون نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی اور شوہر کے لیے ویڈیو پیغام موبائل میں ریکارڈ کر رکھے تھے۔ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی تھی۔ آج خاتون کے شوہر شیراز آفتاب نے بھی خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ لواحقین نے لاش لے جا کر ایس پی گوجرخان کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج رات شروع ہوگا
پولیس کی تحقیقات اور الزامات
مبینہ خودکشی کرنے والے شیراز آفتاب کے والد نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کا قاتل پولیس آفیسروں میں سے ایک ہے، جو ملزم کو کرسی پر بٹھا کر میرا بیٹا جو مدعی تھا، اسے کھڑا کر کے بیان لیتے رہے۔ میرے بیٹے کا دل ٹوٹ گیا اور وہ بددل ہو کر گھر آیا۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کے تحت ریکارڈ اجتماعی شادیاں، 9 ماہ میں 66 تقریبات، 4857 جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے
شیراز آفتاب کا ویڈیو بیان
شیراز آفتاب کا خودکشی سے قبل ریکارڈ کیا گیا ویڈیو بیان سامنے آیا جس میں وہ شدید کرب اور اذیت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ:
آپ سب کو پتا ہے میرا نام شیراز آفتاب ہے۔ میری اہلیہ کے ساتھ جو حادثہ ہوا، وہ بھی معلوم ہے، عدیل، موسیٰ، جواد اور دولتالہ والی باجی وغیرہ، یعنی نازیہ اور سائرہ، سب مل کر میری اہلیہ کے قاتل ہیں۔ مجھے اب یہ لگ رہا ہے کہ میری زندگی کا بھی خاتمہ قریب ہے۔
آخری الفاظ
شیراز آفتاب نے مزید کہا، “میرے دوست یار سب میرے ساتھ کھڑے رہے، لیکن میں ان امیروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میرا دل اس وقت ٹوٹ چکا ہے اور میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں نے جو اہلیہ نے کہا، وہی ایف آئی آر درج کرائی۔ اب میں بھی تنگ آ کر جا رہا ہوں۔”








