کراچی کے عوامی پارکس کے تجارتی مقاصد کے استعمال کا کیس، وفاقی آئینی عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا
کراچی کے عوامی پارکس کا تجارتی استعمال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی کے عوامی پارکس کے تجارتی مقاصد کے استعمال کا کیس وفاقی آئینی عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ بہت بڑی کامیابی ہے: طلال چودھری
تفصیلات
وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے عوامی پارکس کے تجارتی مقاصد کے استعمال کا کیس زیر سماعت ہونے پر حکم امتناع دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ کیس کراچی میونسپل کارپوریشن کی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران پیش آیا۔ سماعت کی قیادت جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، جو 3 رکنی آئینی عدالت کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: باہر نکلا تو مشکلات، اندر آیا تو بھی مشکلات۔۔۔
کے ایم سی کی طرف سے درخواست
وکیل کے ایم سی کا کہنا تھا کہ یہ کیس کے ایم سی کے اختیارات سے متعلق ہے۔ کے ایم سی نے قرارداد کے ذریعے عوامی پارکس کو کھیلوں کیلئے استعمال کرنے کی منظوری دی۔ وکیل کے ایم سی نے مزید بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کے ایم سی کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے، جس کے خلاف ہم نے اپیل دائر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے بعد بحیرہ عرب میں تعینات بھارتی بیڑہ ‘آئی این ایس وکرانت، اچانک واپس نیول اسٹیشن پہنچ گیا
آئینی عدالت کا موقف
آئینی عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ایک مفاد عامہ کا کیس ہے، اور اس نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کو 27 نومبر تک ملتوی کر دیا۔
توہین عدالت کی درخواستیں
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ عدالت نے اس پر کہا کہ 27 نومبر کو مکمل کیس سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔








