لاہور سے خانیوال تک برقی انجنوں سے چلنے والی گاڑیاں بیس پچیس برس بھی نہ چل پائیں کیونکہ لٹکائی گئیں تانبے کی برقی تاریں چور لے اْڑے

مصنف: محمد سعید جاوید

قسط: 331
پاکستان بننے کے بعد صرف لودھراں سے لاہور تک کی پٹری کو دو رویہ کیا جا سکا ہے۔ ابھی بھی لاہور سے پشاور تک ایک پٹری ہی چلتی ہے، جس کی وجہ سے ایک گاڑی کو روک کر دوسری کو کراس کروانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے میں اموات کی تعداد 27 ہوگئی

برقی انجنوں کا نقصان

لاہور سے خانیوال تک برقی انجنوں سے چلنے والی گاڑیاں پاکستان میں بیس پچیس برس بھی نہ چل پائیں کیونکہ اس کے لیے لٹکائی گئیں تانبے کی برقی تاریں چور لے اْڑے جن کی مدد کے لیے محکمے کا بدعنوان عملہ حاضر تھا ان کی مرضی اور تعاون کے بغیر یہ کام ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ اتنے ہائی وولٹیج سے بھری ہوئی تار کو بھلا کس کی ہمت ہے کہ ہاتھ لگائے، کوئی تو ہوگا جو پیچھے سے برقی رو منقطع کرتا ہوگا تاکہ تار چور اس دوران اپنا کام تسلی سے کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن: سمندری طوفان 100 سے زائد لوگوں کی جان لے گیا، لاکھوں بے گھر، اموات زیادہ ہونے کا خدشہ

بدعنوانی کے اثرات

محکمے کے کچھ ملازمین میں بے ایمانی اور بدعنوانی اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ انھوں نے استعمال شدہ اور بیکار اشیاء کے ساتھ ساتھ کارآمد اشیاء بھی بیچ کھائیں۔ انتہا یہ تھی کہ چین سے درآمد کیے جانے والے نئے ڈیزل انجنوں میں استعمال ہونے والے صاف ستھرے موبل آئل اور ڈیزل کو چوری کر کے باہر مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا اور اس کی جگہ بھٹیوں کا استعمال شدہ گندا موبل آئل ڈالا جاتا رہا جس سے انجن بری طرح تباہ ہونے لگے اور ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جب کوئی نہ کوئی انجن فیل ہو کر بیچ جنگل میں نہ کھڑا ہو جاتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے

وزیروں کی تبدیلی کا اثر

اس دوران کئی وزیر آئے، متعدد بار ریلوے کے اعلیٰ افسروں کو بھی تبدیل کیا گیا لیکن حالات بدستور وہیں کے وہیں رکے رہے۔ کسی نئے جذباتی قسم کے وزیر کی آمد پر وقتی طور پر کچھ بہتری کے آثار نظر آنے لگتے ہیں لیکن جلد ہی عملے کے بدعنوان افراد اپنی پرانی ڈگر پر چل نکلتے ہیں۔ اور اگر پکڑے جاتے ہیں تو اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے یا یونین کا دباؤ ڈال کر معاملے کو رفع دفع کروا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خورشید شاہ کی طبیعت ناساز، سکھر سے کراچی کے ہسپتال منتقل کردیا گیا

مسافروں کی تبدیلی

دوسری طرف مسافر گاڑیوں کی کم رفتار اور مخصوص اور ناموافق اوقات میں چلنے کی وجہ سے عوام نے اس طرف سے منہ پھیر لیا اور نسبتاً تیز رفتار، سستی اور بروقت مہیا ہو جانے والی سواریوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کر لی۔

یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کے بعد بھارت میں مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک اضافہ، 19 ریاستوں میں 184 واقعات رپورٹ

مال گاڑیوں کا زوال

مال گاڑیوں کی تعداد ایک دم بے تحاشا کم ہو گئی اور ان پر جانے والا سارا مال رفتہ رفتہ ٹرکوں اور ٹریلروں پر منتقل ہو گیا۔ مال گاڑیاں، جو کسی اچھے وقت میں روزانہ دس پندرہ کی تعداد میں نکلا کرتی تھیں وہ اب ہفتے میں ایک دو تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔

مستقبل کے منصوبے

غرض ہر طرف سے تباہ حال اس محکمے کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے اب کسی معجزے کا انتظار تھا۔ اور یہ معجزہ پڑوسی ملک چین سے ایک معاہدے کی صورت میں سامنے آیا جسے سی پیک CPEC کا نام دیا گیا، یہ چین کا ایک بہت ہی عظیم الشان اور وسیع منصوبہ تھا جو مجموعی طور پر تو کھربوں ڈالرز میں پھیلا ہوا تھا اور جس سے وہ ساری دنیا کے بڑے خطوں سے زمینی، مواصلاتی اور تجارتی روابط رکھنا چاہتا تھا۔ اس کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں بھی استعمال ہونا تھا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...