لاہور ہائیکورٹ: نابینا افراد کی درخواست پر پنجاب حکومت کے افسر کی رپورٹ سمیت طلبی
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے نابینا افراد کے جائز مطالبات ماننے اور سکیورٹی دینے کی درخواست پر پنجاب حکومت کے ذمہ دار افسر کو رپورٹ سمیت طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: مذہبی جماعت جو کر رہی تھی وہ سیاست نہیں انتشار تھا، عظمیٰ بخاری
سماعت کی تفصیلات
سما ٹی وی کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ میں نابینا افراد کے جائز مطالبات ماننے اور سکیورٹی دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سوال کیا کہ آیا کسی نابینا شہری نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ میڈیا کے مطابق، مطالبات منظور نہ ہونے پر ایک نابینا شہری نے پیٹرول پی لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، محکمہ صحت سے متعلق اہم فیصلے، ایڈمشن پالیسی کی منظوری
عدالت کی جانب سے استفسارات
عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ صرف سکیورٹی چاہتے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے وضاحت کی کہ یہ افراد سکیورٹی کے ساتھ کوٹہ کے مطابق نوکریاں بھی چاہتے ہیں۔ حکام انہیں مذاکرات کے لیے بلاتے ہیں لیکن ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
پنجاب حکومت کی ذمہ داری
عدالت نے پنجاب حکومت کے ذمہ دار افسر کو رپورٹ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب رپورٹ سمیت ذمہ دار افسر کو ہائیکورٹ بھیجیں۔ مقدمے کی سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔








