بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور عثمان ہادی شہید کے قاتلوں کی سرپرستی کے خلاف احتجاج جاری
بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت کے خلاف احتجاج
ڈھاکہ (خصوصی رپورٹ) بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور عثمان ہادی شہید کے قاتلوں کی سرپرستی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 اوورز میں 349 رنز اور 37 چھکے،ٹی ٹوئنٹی میں نیا ورلڈ ریکارڈ قائم
لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کا اثر
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کی وجہ سے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں پیٹراپول کے قریب عوام "نومینز لینڈ" میں داخل ہو گئے اور انہوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے۔ پورٹ کے علاقے بیناپول میں بھارتی ٹرک ڈرائیورز کے لیے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی ذات میں موجود مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ضرررساں انداز میں استعمال کیا جا سکتاہے
چٹاگانگ میں مزید احتجاج
چٹاگانگ میں بھارت کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائشگاہ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کی میچ ریفری کو نہ ہٹائے جانے پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی
عثمان ہادی شہید کی دھمکیاں
واضح رہے کہ نوجوان سیاسی کارکن عثمان ہادی شہید کو بھارت کے فون نمبرز سے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ایسوسی ایشن کی جانب سے دبئی میں “عید الاتحاد” تقریب کا انعقاد
نئے خطرات کا سامنا
دوسری جانب طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک اور سیاسی رہنما بھارتی دہشت گردوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ "جنگ" کے مطابق بنگالی نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو بھارتی فوج کے سابق میجر کی جانب سے "اگلی باری تمہاری" کی دھمکی دی گئی ہے، جبکہ ایک سابق بھارتی کرنل نے بھی حسنات عبداللہ کو گردن میں گولی مارنے کی دھمکی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اور لاہور کے بیچ گاڑی چل نکلی تھی جو تین، چار دن میں منزل مقصود پر پہنچ جاتی تھی، یہ ڈیڑھ مہینے کے دریائی سفر سے تو بہت بہتر تھا۔
بین الاقوامی تناظر
یاد رہے کہ حالیہ سڈنی حملے میں بھی بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2020 میں آسٹریلیا نے بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک اہلکاروں کو جاسوسی سرگرمیوں پر ملک بدر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، عسکری الیون سمیت چند دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز کو خالی کروانے کی افواہوں کی حقیقت سامنے آگئی
سکھ رہنماؤں پر حملے
اسی طرح کینیڈا اور امریکا میں سکھ رہنماؤں پر حملوں میں بھی بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتکاروں کے شرپسند عناصر سے رابطوں کو بے نقاب کیا، جبکہ کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پر کئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟
بھارت کی کارروائیاں
امریکا میں سکھ فار جسٹس کے سربراہ کے قتل کی سازش کے الزام میں بھی ایک بھارتی شہری گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ سری لنکا میں بھی بھارت دہائیوں تک تامل دہشت گردوں کی حمایت کرتا رہا جو طویل خانہ جنگی کا باعث بنی۔
اقوام عالم کے لیے پیغام
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود بھارتی شہری، بالخصوص اقلیتیں بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما کا قتل بھارتی ڈیپ اسٹیٹ کی عالمی سطح پر منظم دہشت گردی کی واضح مثال ہے اور اقوام عالم کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔







