بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور عثمان ہادی شہید کے قاتلوں کی سرپرستی کے خلاف احتجاج جاری
بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت کے خلاف احتجاج
ڈھاکہ (خصوصی رپورٹ) بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور عثمان ہادی شہید کے قاتلوں کی سرپرستی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مفتاح اسماعیل نے ’’کرپٹو مخالف بیانیہ‘‘ کیوں اپنایا، اربوں روپے کہاں گئے، پریس کانفرنس میں کیا کچھ چھپانے کی کوشش کی۔۔۔؟ تہلکہ خیز انکشافات
لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کا اثر
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کی وجہ سے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں پیٹراپول کے قریب عوام "نومینز لینڈ" میں داخل ہو گئے اور انہوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے۔ پورٹ کے علاقے بیناپول میں بھارتی ٹرک ڈرائیورز کے لیے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلز نے 13سالہ کرکٹر کو اپنی ٹیم کے لیے خرید لیا
چٹاگانگ میں مزید احتجاج
چٹاگانگ میں بھارت کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائشگاہ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں آسٹریلیا کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا شرمناک واقعہ
عثمان ہادی شہید کی دھمکیاں
واضح رہے کہ نوجوان سیاسی کارکن عثمان ہادی شہید کو بھارت کے فون نمبرز سے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو، ماؤنٹ بیٹن کا رہنما رہا
نئے خطرات کا سامنا
دوسری جانب طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک اور سیاسی رہنما بھارتی دہشت گردوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ "جنگ" کے مطابق بنگالی نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو بھارتی فوج کے سابق میجر کی جانب سے "اگلی باری تمہاری" کی دھمکی دی گئی ہے، جبکہ ایک سابق بھارتی کرنل نے بھی حسنات عبداللہ کو گردن میں گولی مارنے کی دھمکی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس، دیت کی رقم دو کلو سونے کے برابر مقرر کرنے کی تجویز
بین الاقوامی تناظر
یاد رہے کہ حالیہ سڈنی حملے میں بھی بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2020 میں آسٹریلیا نے بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک اہلکاروں کو جاسوسی سرگرمیوں پر ملک بدر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے 783ویں سالانہ عرس کے انتظامات مکمل، خصوصی بریفنگ
سکھ رہنماؤں پر حملے
اسی طرح کینیڈا اور امریکا میں سکھ رہنماؤں پر حملوں میں بھی بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتکاروں کے شرپسند عناصر سے رابطوں کو بے نقاب کیا، جبکہ کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پر کئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا پریس کلب کے 17رکنی وفد کی ڈی جی پی آر غلام صغیر شاہد سے ملاقات
بھارت کی کارروائیاں
امریکا میں سکھ فار جسٹس کے سربراہ کے قتل کی سازش کے الزام میں بھی ایک بھارتی شہری گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ سری لنکا میں بھی بھارت دہائیوں تک تامل دہشت گردوں کی حمایت کرتا رہا جو طویل خانہ جنگی کا باعث بنی۔
اقوام عالم کے لیے پیغام
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود بھارتی شہری، بالخصوص اقلیتیں بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما کا قتل بھارتی ڈیپ اسٹیٹ کی عالمی سطح پر منظم دہشت گردی کی واضح مثال ہے اور اقوام عالم کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔








