اقوامِ متحدہ کے ماہر کی بشریٰ بی بی خان کی حراستی حالت پر شدید تشویش

اقوامِ متحدہ کا تشویش کا اظہار

جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوامِ متحدہ کی ایک ماہر نے سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خان کی حراستی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں، اور پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک نے اربوں ڈالرز کا یورپی ساختہ فضائی اور میزائل نظام خریدنے کا اعلان کر دیا

ریاست کی ذمہ داری

اقوامِ متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کی صحت کا تحفظ کرے اور حراست کے ایسے حالات فراہم کرے جو انسانی وقار کے مطابق ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: مری میں حکمران جماعت ن لیگ کی مرکزی قیادت کی بیٹھک،نئے چیف الیکشن کمشنر اور اہم آئینی امور پر مشاورت مکمل

بشریٰ بی بی کی حراست کی حالت

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں ایک تنگ، ہوا سے محروم، گندا اور شدید سرد سیل میں رکھا گیا ہے، جو کیڑے مکوڑوں اور چوہوں سے بھرا ہوا ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث سیل اکثر اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں آلودہ پانی پینے کو دیا جا رہا ہے جبکہ کھانا حد سے زیادہ مرچوں کی وجہ سے ناقابلِ خوردنی بنا دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پرسنل بیگیج گاڑی امپورٹ اسکیم ختم کر دی

صحت کے مسائل

ان غیر انسانی حالات کے باعث بشریٰ بی بی کا وزن تقریباً 15 کلوگرام کم ہو چکا ہے، انہیں بار بار انفیکشن، بے ہوشی کے دورے اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ ان میں دانت کا شدید انفیکشن اور معدے کا السر بھی شامل ہے، جو مبینہ طور پر سابقہ حراست کے دوران آلودہ خوراک کے نتیجے میں پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال اور ایما: عشق یا سادگی کی انتہا؟

بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی

ایلس جِل ایڈورڈز نے کہا کہ یہ حالات بین الاقوامی معیار سے کہیں کم تر ہیں۔ کوئی بھی قیدی آلودہ خوراک یا پانی، یا ایسے حالات میں نہیں رکھا جانا چاہیے جو اس کی موجودہ بیماریوں کو مزید بگاڑ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: پیرا فورس کی کارروائیاں، متاثرہ خاندان کس حالت میں؟ لوگ بھیک مانگنے پر مجبور، حکومت سے مدد کی اپیل

قیدی کی حالت کا تعین

انہوں نے پاکستان کو یاد دلایا کہ حراست کے حالات اور مقام کا تعین قیدی کی عمر، جنس اور صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں نیٹو فوجی محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہے اور وہ فرنٹ لائن پر نہیں تھے، ٹرمپ

تنہائی کے حالات

مزید یہ کہ رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی کو اکثر 22 گھنٹے سے زائد روزانہ تقریباً مکمل تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور بعض اوقات یہ سلسلہ 10 دن سے بھی زیادہ جاری رہتا ہے۔ اس دوران انہیں ورزش، مطالعے کا مواد، وکیل سے رابطے، اہلِ خانہ کی ملاقات یا اپنے ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی

انسانی رابطے کی ضرورت

اقوامِ متحدہ کی نمائندہ نے زور دیا کہ حکام کو چاہیے کہ بشریٰ بی بی کو اپنے وکلا سے رابطے، اہلِ خانہ کی ملاقات اور بامعنی انسانی رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں روسی جوڑے کا قتل، لاشوں کے ٹکڑے کہاں سے ملے ؟ جان کر روح کانپ اٹھے

ذہنی دباؤ اور صحت کا خطرہ

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی طویل تنہائی شدید ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے اور بنیادی قانونی و طبی تحفظات تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ علاج نہ ہونے والی بیماریوں کے ساتھ مل کر یہ صورتحال ایک سنگین خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ہو رہے ہیں کس سے ہو رہے ہیں یہ تو پارٹیاں بتا سکتی ہیں:شیخ رشید

بشریٰ بی بی کا پس منظر

واضح رہے کہ بشریٰ بی بی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں، جو 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے اور اگست 2023 سے خود بھی جیل میں قید ہیں۔

حکومتِ پاکستان سے مطالبہ

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے بشریٰ بی بی کے معاملے کو باضابطہ طور پر حکومتِ پاکستان کے سامنے اٹھا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر قریبی نظر رکھیں گی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...